
جموں, 08 جولائی (ہ س)۔ ضلع ڈوڈہ کے قصبہ ٹھاٹھری میں گزشتہ روز بادل پھٹنے کے نتیجے میں آنے والے شدید سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں بحالی اور باز آبادکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ انتظامیہ بھاری مشینری کی مدد سے بٹوت کشتواڑ قومی شاہراہ کو مکمل طور پر بحال کرنے میں مصروف ہے، جبکہ شاہراہ پر جزوی طور پر ٹریفک کی آمدورفت بحال کر دی گئی ہے۔سب ڈویژنل مجسٹریٹ ٹھاٹھری، شیتل کمار نے بتایا کہ سیلابی ریلے کے باعث 27 رہائشی مکانات اور 35 دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس قدرتی آفت میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم بڑے پیمانے پر مالی نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نقصانات کا تفصیلی جائزہ لینے اور تخمینہ تیار کرنے کے لیے متعلقہ عملے کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ پانچ خاندانوں کو بوائز ہائر اسیکنڈری اسکول ٹھاٹھری میں عارضی طور پر منتقل کیا گیا ہے، جہاں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ایس ڈی ایم کے مطابق سیلابی ریلے میں تقریباً پانچ گاڑیاں بہہ گئیں، جبکہ درجنوں گاڑیاں ملبے اور بڑے پتھروں میں پھنس کر شدید متاثر ہوئیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ محکمۂ موسمیات اور انتظامیہ کی جانب سے جاری موسمی ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر