
نئی دہلی، 8 جولائی (ہ س): دہلی ہائی کورٹ نے دھوکہ باز سکیش چندر شیکھر کی طرف سے 200 کروڑ روپے کی رنگداری کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ جسٹس مدھو جین کی سربراہی والی بنچ نے اگلی سماعت 10 ستمبر کو مقرر کی۔
3 جون کو پٹیالہ ہاو¿س کورٹ نے اس معاملے میں سکیش چندر شیکھر سمیت 21 ملزمان کے خلاف الزامات طے کرنے کا حکم دیا۔ سکیش چندر شیکھر نے اس حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ عدالت نے ان ملزمان کے خلاف مکوکا کی دفعہ 3 اور 4، دفعہ 170، 186، 384، 386، 388، 406، 409، 420، 468، 471، اور 120B تعزیرات ہند کی دفعہ 6 اور آئی ٹی ایکٹ 6 کے تحت الزامات طے کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے سکیش چندر شیکھر کے علاوہ ان کی بیوی لینا پال اور اداکارہ جیکولین فرنینڈس کو بھی اس معاملے میں ملزم بنایا ہے۔ جیکولین فرنینڈس کے خلاف صرف رنگداری کے مقدمے میں فرد جرم عائد کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ مکوکا کیس میں ان کے خلاف فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔
اس معاملے میں، دہلی پولیس نے ادیتی سنگھ کی شکایت پر مقدمہ درج کیا ہے۔ اس کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بھی منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا۔ ای ڈی نے عدالت کو بتایا کہ سکیش نے ادیتی سنگھ سے 57 کروڑ روپے وصول کرنے کا اعتراف کیا، لیکن تحقیقات سے پتہ چلا کہ اسے 80 کروڑ روپے ملے ہیں۔ ای ڈی نے کہا کہ سکیش اس معاملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ اس نے لینڈ لائن سے ادیتی سنگھ کو پہلی کال کی۔ ای ڈی نے کہا کہ سکیش نے انکشاف کیا کہ اس رقم کا استعمال کار، لگڑری اشیاء اور تحائف خریدنے میں کیا گیا تھا۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے مطابق، سکیش چندر شیکھر نے غیر قانونی فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے جیکولین کے لیے تحائف خریدے جو اس نے شیویندر سنگھ کی اہلیہ، ادیتی سنگھ اور دیگر اعلیٰ شخصیات کے ساتھ دھوکہ دہی کی سرگرمیوں کے ذریعے حاصل کیے تھے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے مطابق، سکیش نے اس جرم کو ترتیب دیا اور اس کو انجام دیا۔ دہلی پولیس نے سکیش چندر شیکھر پرمکوکا (ماو¿سٹ کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم) ایکٹ کے تحت فرد جرم عائد کی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی