
کولکاتا، 4 جولائی (ہ س)۔ مغربی بنگال کی سیاست میں ہفتہ کے روز اس وقت نیا موڑ آ گیا، جب ترنمول کانگریس کی ریاستی صدر چندریما بھٹاچاریہ نے پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کے فوراً بعد اسمبلی پہنچ کر رتبرت بنرجی کی قیادت والے گروپ کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اس پیش رفت کے بعد ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے مختلف قسم کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔
استعفے کے بعد چندریما بھٹاچاریہ نے کہا کہ جمعہ کی رات سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی ایک فون کال کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق، گفتگو کے دوران ممتا بنرجی نے ان سے کہا تھا، تم نے پارٹی دفتر ان کے حوالے کر دیا۔ چندریما نے کہا کہ اس تبصرے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ان کی وفاداری پر ہی سوال اٹھایا گیا تو انہیں محسوس ہوا کہ ایسے ماحول میں کسی بھی عہدے پر برقرار رہنا مناسب نہیں۔ اسی لیے انہوں نے پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔
درحقیقت، جمعہ کے روز شہر میں واقع ترنمول بھون کو لے کر ممتا حامی اور رتبرت بنرجی حامی گروپوں کے درمیان تنازع سامنے آیا تھا۔ ممتا حامی رہنماؤں کا الزام ہے کہ رتبرت گروپ کے حامیوں نے زبردستی پارٹی دفتر پر قبضہ کر کے مرکزی دروازے پر تالا لگا دیا۔ اس وقت چندریما بھٹاچاریہ عمارت کے اندر موجود تھیں۔ اس واقعے کے بعد ان کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ الزام لگایا گیا کہ ان کی موجودگی میں دوسرا گروپ عمارت کے اندر کیسے داخل ہوا اور ان کے باہر نکلنے کے فوراً بعد دفتر پر قبضہ کیسے کر لیا گیا۔
استعفے کے اعلان کے بعد چندریما بھٹاچاریہ سیدھی اسمبلی پہنچیں، جہاں رتبرت بنرجی گروپ کے رہنما سندیپن ساہا نے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد انہوں نے رتبرت بنرجی، فرہاد حکیم، دیباشیش کمار، چندرناتھ سنہا اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ اگر چندریما بھٹاچاریہ باضابطہ طور پر رتبرت بنرجی گروپ میں شامل ہوتی ہیں تو انہیں وہاں ریاستی صدر کی ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔ تاہم، اس حوالے سے کسی بھی فریق کی جانب سے کوئی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
دوسری جانب، رکن اسمبلی کنال گھوش نے چندریما بھٹاچاریہ کے استعفے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ طویل عرصے تک حکومت میں اہم عہدوں پر فائز رہیں اور کئی اہم محکموں کی ذمہ داریاں سنبھالتی رہیں۔ اس دوران انہوں نے کبھی بھی کسی اختلاف کا عوامی طور پر اظہار نہیں کیا۔ ادھر ممتا حامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ چندریما کے بیٹے سوربھ باسو پہلے ہی رتبرت بنرجی گروپ کی میٹنگوں میں شریک ہو چکے تھے، اس لیے ان کے بھی اسی گروپ میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں پہلے سے کی جا رہی تھیں۔
فی الحال چندریما بھٹاچاریہ نے اپنے آئندہ سیاسی قدم کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ تاہم، ان کے استعفے اور اس کے فوراً بعد رتبرت بنرجی گروپ کے رہنماؤں سے ملاقات نے مغربی بنگال کی سیاست میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد