
نئی دہلی، 04 جولائی (ہ س)۔ کانگریس نے ایودھیا کے رام جنم بھومی مندر میں مبینہ چندے کی چوری کے معاملے پر مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ کروڑوں روپے کے اس مبینہ گھوٹالے میں صرف نچلے درجے کے ملازمین کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جبکہ ذمہ دار بڑے لوگوں کو بچایا جا رہا ہے۔ پارٹی نے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس ہیڈکوارٹر میں ہفتہ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اتر پردیش کانگریس قانون ساز پارٹی کی رہنما آرادھنا مشرا 'مونا' نے کہا کہ رام مندر میں مبینہ چندے کی چوری کے واقعے نے ملک بھر کے رام بھکتوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ اس معاملے میں صرف نچلے درجے کے ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ ٹرسٹ کے اعلیٰ عہدیداروں کے کردار پر اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر سپریم کورٹ کے حکم کے بعد حکومت کی نگرانی میں قائم کیے گئے ٹرسٹ کے ذریعے کی گئی تھی، اس لیے مرکزی حکومت اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔ انہوں نے سوال کیا کہ ٹرسٹ سے وابستہ ذمہ دار افراد کے خلاف اب تک ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی۔
آرادھنا مشرا نے کہا کہ جن ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے، ان کی تقرری ٹرسٹ کی جانب سے فراہم کی گئی فہرست کی بنیاد پر اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ذریعے ایک ایجنسی نے کی تھی۔ تقرری کے عمل اور پس منظر کی جانچ سے متعلق سوالات کا بھی کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ کروڑوں روپے کے چندے کی مبینہ چوری کا معاملہ سامنے آنے کے باوجود انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، محکمہ انکم ٹیکس اور مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) جیسی ایجنسیوں کی جانب سے کوئی سرگرمی دکھائی نہیں دے رہی۔ معاملے کی تحقیقات کو صرف نچلے درجے کے ملازمین تک محدود رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی رام مندر سے متعلق زمین کے سودوں پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اب چندے کی مبینہ چوری کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ملک کے عوام کے ذہنوں میں کئی طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس پورے معاملے کی مکمل تحقیقات کرائے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنائے۔
آرادھنا مشرا نے کہا کہ رام مندر کروڑوں لوگوں کے عقیدے کا مرکز ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی معاملے میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، جبکہ ملک جواب چاہتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد