
نئی دہلی،04جولائی(ہ س)۔مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم، نیز وزیر مملکت برائے وزیر اعظم کا دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ ہندوستان میں جگر کی بیماریوں کی بڑھتی ہوئی وبا اور ٹائپ-2 ذیابیطس میں تیز رفتار اضافہ دراصل جسمانی تبادلہ مادہ (میٹابولزم) سے متعلق ایک وسیع تر باہمی نظام کا حصہ ہے، جس میں چربیلا جگر، بلند فشارِ خون، خون میں چکنائی کے غیر معمولی عوارض اور انسولین کے خلاف جسم کی مزاحمت جیسی بیماریاں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں اور ایک دوسرے کے پیدا ہونے کے امکانات میں اضافہ کرتی ہیں۔وزیر موصوف نے کہا کہ یہ بیماریاں اب پہلے کے مقابلے میں کہیں کم عمر افراد میں بھی ظاہر ہو رہی ہیں، جس کے باعث یہ معاملہ محض طبی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک قومی چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے احتیاطی صحت کی دیکھ بھال اور عوام میں وسیع پیمانے پر بیداری کو بنیاد بنا کر قومی سطح پر مشن انداز میں اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ نقطہ نظر وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے موٹاپے اور طرزِ زندگی سے وابستہ بیماریوں کے تدارک پر مسلسل دی جانے والی ترجیح کے عین مطابق ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نئی دہلی میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف لیور اینڈ بائلری سائنسز (آئی ایل بی ایس) میں لیور اینڈ میٹابولک ڈیزیز نیٹ ورک اِن فِلائمِن کی تیسری سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمہ (ڈی ایس ٹی) کے تعاون سے قائم اس نیٹ ورک کا مقصد باہمی تحقیقی تعاون، اختراع، بیماریوں کی بروقت تشخیص اور شواہد پر مبنی پالیسی اقدامات کو فروغ دے کر ہندوستان میں جگر اور جسمانی تبادلہ مادہ سے متعلق بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا مو¿ثر مقابلہ کرنا ہے۔اس پروگرام میں ڈاکٹر ونود پال، سابق رکن نیتی آیوگ؛ ڈاکٹر سلویان پیئیڈ، سائنسی و تعلیمی تعاون کے لیے فرانس کی اتاشی؛ پروفیسر مردول کمار ڈاگا، وائس چانسلر، آئی ایل بی ایس اور پروفیسر شیو کمار سرین، ڈائریکٹر، آئی ایل بی ایس سمیت ملک بھر سے ممتاز معالجین، سائنس دانوں اور محققین نے شرکت کی۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پروفیسر شیو کمار سرین کو اِن فِلائمِن کی قیادت کرنے پر مبارک باد دیتے ہوئے اس اقدام کو ایک اہم قومی پلیٹ فارم قرار دیا، جس نے سائنسی اداروں، معالجین اور محققین کو ہندوستان کو درپیش تیزی سے بڑھتے ہوئے عوامی صحت کے ایک بڑے چیلنج سے نمٹنے کے لیے یکجا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جگر اور جسمانی تبادلہ مادہ سے متعلق بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے لیے مسلسل سائنسی تعاون اور عوام کی فعال شمولیت نہایت اہم ہوگی۔وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان میں جسمانی تبادلہ مادہ سے متعلق بیماریوں کے پھیلاو کے رجحان میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ جو بیماریاں کبھی زیادہ تر درمیانی عمر اور معمر افراد تک محدود سمجھی جاتی تھیں، اب وہ تیزی سے نوجوان بالغوں بلکہ نوعمر افراد میں بھی تشخیص کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق بیماریوں کے اس بدلتے ہوئے رجحان کے پیش نظر علاج پر مبنی نظامِ صحت سے آگے بڑھتے ہوئے احتیاطی تدابیر، بروقت تشخیص اور صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کو ترجیح دینا ناگزیر ہو گیا ہے۔
ہندوستان میں جسمانی تبادلہ مادہ (میٹابولزم) سے متعلق منفرد خصوصیات کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ملک میں موجود جینیاتی رجحان، پیٹ کے گرد چربی (مرکزی موٹاپے) کی زیادہ شرح اور ہندوستانی آبادی کی منفرد جسمانی ساخت (انڈین فینوٹائپ) لوگوں کو ذیابیطس، چربیلے جگر اور قلبی و عروقی بیماریوں کے لیے خاص طور پر زیادہ حساس بناتی ہے، حتیٰ کہ نسبتاً کم باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) رکھنے والے افراد بھی ان بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خصوصیات اس امر کی متقاضی ہیں کہ ملک میں ہندوستانی اعداد و شمار، ہندوستانی تحقیق اور ہندوستانی حالات سے ہم آہنگ حل تیار کیے جائیں، نہ کہ صرف بیرونِ ملک حاصل ہونے والے تحقیقی شواہد پر انحصار کیا جائے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ جگر گرچہ انسانی جسم کا سب سے زیادہ مضبوط اور خود کو دوبارہ بحال کرنے والا عضو ہے، تاہم غیر صحت بخش غذائی عادات، غیر متوازن طرزِ زندگی، نامناسب نیند، ذہنی دباو¿ پر مبنی رویّے اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث مسلسل دباو¿ کا شکار ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان قابلِ انسداد اسباب پر قابو پانا ہندوستان کی عوامی صحت کی حکمتِ عملی کا لازمی جزو ہونا چاہیے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے انسٹی ٹیوٹ آف لیور اینڈ بائلری سائنسز (آئی ایل بی ایس) کی جانب سے قومی لیور بایوبینک کے قیام کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایسی کم لاگت ابتدائی تشخیصی ٹیکنالوجیز، برادری کی سطح پر جانچ کے آلات اور مقامی طور پر تیار کردہ حیاتیاتی اشاریوں (بایومارکرز) کو فروغ دیا جائے، جو جگر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے سے پہلے ہی بیماری کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات سستی، آسانی سے دستیاب اور احتیاطی صحت کی دیکھ بھال کے لیے حکومت کے عزم کو مزید تقویت دیتے ہیں۔سائنسی اداروں کے درمیان مزید مو¿ثر ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ملک کا تیزی سے فروغ پاتا حیاتیاتی ٹیکنالوجی کا نظام، جینوم مشن اور بڑے پیمانے پر جاری جین کی ترتیب کا پروگرام ہندوستان میں بیماریوں کے منفرد رجحانات کو سمجھنے کے بے مثال مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی ٹیکنالوجی، جینومکس اور مصنوعی ذہانت میں ہونے والی پیش رفت صحت کے انفرادی تقاضوں پر مبنی علاج کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے ذریعے ہر فرد کی جینیاتی ساخت، طرزِ زندگی اور ماحولیاتی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج ممکن ہو سکے گا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ صرف سائنسی ترقی اس چیلنج پر قابو پانے کے لیے کافی نہیں، جب تک اس کے ساتھ عوام میں وسیع پیمانے پر بیداری اور طرزِ عمل میں مثبت تبدیلی نہ آئے۔ انہوں نے طبی ماہرین، محققین، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ پر زور دیا کہ وہ سائنسی طور پر مستند صحت بخش عادات کے فروغ اور غذائیت، موٹاپے اور طرزِ زندگی سے وابستہ بیماریوں کے بارے میں گمراہ کن معلومات کی روک تھام کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ وکست بھارت 2047 کے ویڑن کی تکمیل کے لیے صحت مند آبادی بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ذیابیطس اور چربیلے جگر کی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ میں کمی لانا ملک کی نوجوان آبادی کی پیداواری صلاحیت، امنگوں اور بھرپور استعداد کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سمت میں کامیاب کوششیں نہ صرف عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنائیں گی بلکہ ہندوستان کے انسانی وسائل کو مزید مستحکم کرتے ہوئے قومی ترقی کو بھی نئی رفتار بخشیں گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan