پاکستان میں کوئلے کی کان میں دھماکہ، کم از کم 34 کان کن جاں بحق
اسلام آباد، 31 جولائی(ہ س)۔ پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں کوئلے کی ایک کان میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 34 کان کن جاں بحق ہو گئے، جبکہ متعدد مزدوروں کے اب بھی کان کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ کان میں پھ
پاکستان میں کوئلے کی کان میں دھماکہ، کم از کم 34 کان کن جاں بحق


اسلام آباد، 31 جولائی(ہ س)۔ پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں کوئلے کی ایک کان میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 34 کان کن جاں بحق ہو گئے، جبکہ متعدد مزدوروں کے اب بھی کان کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ کان میں پھنسے افراد تک پہنچنے کے لیے مسلسل ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق یہ حادثہ جمعرات کو کوئٹہ کے نواحی علاقے سورنگے میں پیش آیا، جہاں دھماکے کے بعد کوئلے کی کان کا ایک بڑا حصہ منہدم ہو گیا۔

مقامی ذرائع ابلاغ دی نیوز اور دنیا نیوز کے مطابق جمعہ کی صبح مزید چھ لاشیں نکالے جانے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 34 ہو گئی۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ درجنوں مزدوروں کے اب بھی کان کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں نکالنے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ اگر امدادی کارروائیوں میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی پائی گئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے صوبے بھر کی کوئلہ کانوں میں حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

صوبائی وزیر برائے معدنیات و کان کنی شعیب نوشیروانی نے کہا کہ انتہائی دشوار حالات کے باوجود امدادی ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں اور کان میں پھنسے مزدوروں تک پہنچنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کو پانچ، پانچ لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو تین، تین لاکھ روپے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ کوئلہ کان کے مالک قربان جوگیزئی کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حادثہ میتھین گیس کے دھماکے کے باعث پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے کے وقت کان کے اندر 42 مزدور کام کر رہے تھے اور پھنسنے والے تمام افراد کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے ہے۔

دریں اثنا، پولیس کے مطابق جمعرات ہی کو بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں ایک الگ کوئلہ کان حادثے میں ایک مزدور جان کی بازی ہار گیا۔رپورٹس کے مطابق بلوچستان اور سندھ میں کوئلہ کانوں کے حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں، جس کی بڑی وجوہات ناکافی حفاظتی انتظامات اور غیر معیاری کام کے حالات ہیں۔ اس سے قبل سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں میٹنگ ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ابراہیم کول مائنز میں دیوار گرنے سے چار مزدور ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد کانوں میں حفاظتی اقدامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande