سی سی ٹی وی فوٹیج میں پارلیمنٹ کے قریب مظاہرین نظر آئے، سکیورٹی پر سوالات
نئی دہلی، 30 جولائی (ہ س) کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں 20 جولائی کو نکالے گئے پارلیمنٹ مارچ کے دوران پارلیمنٹ ہاو¿س کے اطراف سکیورٹی انتظامات پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ پارلیمنٹ کمپلیکس کے اطراف نصب پانچ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹ
سی سی ٹی وی فوٹیج میں پارلیمنٹ کے قریب مظاہرین نظر آئے، سکیورٹی پر سوالات


نئی دہلی، 30 جولائی (ہ س)

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں 20 جولائی کو نکالے گئے پارلیمنٹ مارچ کے دوران پارلیمنٹ ہاو¿س کے اطراف سکیورٹی انتظامات پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ پارلیمنٹ کمپلیکس کے اطراف نصب پانچ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں بڑی تعداد میں مظاہرین پارلیمنٹ کے کافی قریب تک پہنچتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم موقع پر پہلے سے دہلی پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے اہلکار تعینات تھے اور حالات کشیدہ ہونے پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔

ذرائع کے مطابق اس روز نئی دہلی ضلع کے این ڈی ایم سی علاقے میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 163 نافذ تھی۔ اس کے باوجود بڑی تعداد میں مظاہرین ممنوعہ علاقے کے قریب تک پہنچ گئے۔ فوٹیج میں کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان دھکا مکی، نعرہ بازی اور کشیدہ صورتحال بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق مظاہرین ریل بھون کے قریب قائم سیلفی پوائنٹ تک پہنچ گئے تھے۔ ویڈیو میں سیلفی پوائنٹ کا دایاں ستون واضح طور پر نظر آتا ہے جبکہ بڑی تعداد میں مظاہرین نعرے لگاتے اور احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس دوران پولیس اہلکار انہیں آگے بڑھنے سے روکتے نظر آتے ہیں، جس کے باعث کئی مرتبہ آمنے سامنے کی صورتحال اور جھڑپ جیسے حالات پیدا ہوئے۔

فوٹیج میں مرکزی سیکریٹریٹ کے سائن بورڈ کے پیچھے پارلیمنٹ ہاو¿س واضح طور پر نظر آتا ہے جبکہ دوسری جانب پارلیمنٹ اینیکسی کی عمارت بھی دکھائی دیتی ہے۔ ویڈیو میں آر اے ایف اور دہلی پولیس کے اہلکار حفاظتی حصار میں تعینات نظر آتے ہیں۔ حالات کشیدہ ہونے پر دہلی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بعض مظاہرین کو حراست میں لیا اور بھیڑ کو وہاں سے منتشر کر دیا۔

فوٹیج سامنے آنے کے بعد سکیورٹی انتظامات پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پارلیمنٹ مارچ کی پیشگی اطلاع ہونے اور دفعہ 163 نافذ ہونے کے باوجود مظاہرین پارلیمنٹ کے قریب تک کیسے پہنچ گئے؟ ابتدائی مرحلے میں انہیں روکنے کے لیے بیریکیڈنگ اور حفاظتی انتظامات کتنے مو¿ثر تھے، اس پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔ سکیورٹی ایجنسیاں پورے واقعے کا جائزہ لے رہی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande