
غالب اکیڈمی کے جلسے میں پریم چند کے حوالے سے پروفیسرجانکی پرساد شرما کا اظہار خیال
نئی دہلی ،30جولائی (ہ س )۔
گزشتہ روز غالب اکیڈمی ،نئی دہلی کے زیر اہتمام وزارت ثقافت حکومت ہند کے تعاون سے حضرت امیر خسرو اردو، ہندی کے پہلے شاعر کے عنوان سے ایک جلسے کا اہتمام کیا گیا جس میں ہندی کے پروفیسر جانکی پرساد شرما نے لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ زبان کے تعلق سے امیر خسرو کا نظریہ بہت متعدل تھا۔ہم اردو ہندی میں تفریق نہیں کرسکتے۔ہندی کے ادیب بالمکند گپت جو صحافی اور ادیب تھے انہوں نے امیر خسرو کی ہندی شاعری شائع کی تھی۔بھارتیندو اور رام چندر شکل نے اپنی کتاب ہندی ادب کی تاریخ میں تفصیل سے لکھا ہے۔ اردو شاعری اور زبان کی روایت کو الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔اردو کا استعمال پرتھوی راج راسا میں کیا گیا۔ہندی کی ادبی تاریخوں میں ایک باب لکھا جانا چا ہیے۔امین چیریا کوٹی نے حضرت امیر خسرو کا کلام مرتب کر کے جواہر خسروی کے عنوان سے علی گڑھ سے شائع کیا تھااور سب سے پہلے محمد حسین آزاد نے آب حیات میں تفصیلی ذکر کیا اور پریم چند نے اپنے مدراس کے خطبے1934 میں کہا تھا کہ ادبی ہندی کا پہلا بیج امیر خسرو نے بویا۔ اس موقع پر پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ حضرت امیر خسرو ہندستان کے عہد وسطیٰ کی محبوب اور دل نواز ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے ۔جنہیں صدیاں گزرجانے کے باوجود یاد رکھا گیا۔وہ صوفی بھی تھے سپاہی بھی تھے اور شاعر بھی تھے۔ماہر موسیقی اور مورخ بھی تھے۔فارسی اور ہندی میں شاعری کی۔ اپنی گونا گوں صفات کی وجہ سے انسانی ذہنوں میں آج تک زندہ و تابندہ ہیں۔اس موقع پر مہمان خصوصی ڈاکٹر سید فاروق نے کہا کہ امیر خسرو نے اپنی زبان میں برج بھاشا کا استعمال کیا۔ اردو ہندوستان میں پیدا ہوئی۔ امیر خسرو نے اس میں پہیلیاں بھی لکھیں اور ان کا نعتیہ اور منقبتی کلام بہت مشہور ہوا۔اس موقع پر ڈاکٹر جی آر کنول نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ امیر خسرو نے آٹھ بادشاہوں کا دور دیکھا تھا وہ عربی فارسی ترکی جانتے تھے۔خسرو جیسا شاعر فارسی زبان میں پیدا نہیں ہوا۔ خسرو تمام اصناف کے بادشاہ تھے۔لاکھوں غزلیں لکھی ہیں۔ موسیقی ان کی دین ہے ستار اور طبلے کا ایجاد کیا۔ امیر خسرو کا کلام قوال پڑھتے ہیں۔ امیر خسرو نے بچوں کے لیے بھی لکھا ہے۔وہ عوام کے شاعر تھے صوفی شاعر تھے۔انہیں سنسکرت اور ہندوستان کی تمام زبانوں سے محبت تھی۔اس موقع پر اردو سیکھنے والے طلبا کو اسناد تقسیم کی گئیں ۔اس جلسے میں کثیر تعداد میں طلبا، اساتذہ، دہلی ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ اور علمی ادبی شخصیات موجود تھیں۔ جن میں جناب ظہیر احمد برنی،ہریش رائے فکشن نگار، ڈاکٹر نگار عظیم، شاہد انور،اسپنش کے استاد خوسے مورالیس، معین شاداب، پروفیسر شریف حسین قاسمی، پروفیسر معظم الدین،ڈاکٹر سنتوش سمپرتی،ڈاکٹر شاہد حبیب،ڈاکٹر حنا آفرین،حشمت بھاردواج،ثروت عثمانی، ڈاکٹر مدن رائے،سلیم دہلوی، احترام صدیقی، فرقان علی،سورج پال ادنیٰ، کے ایم شرما،انور خاں ایڈوکیٹ، ابو نعمان ایڈیٹر رہنمائے جدید، عارف حسین، مسز خورشید، سید حفظ الرحمن،پروین ویاس،ڈاکٹر انوپما سری واستو، مینک آسٹن صوفی، شری کانت کوہلی، کمال الدین کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ آخر میں غالب اکیڈمی کے سکریٹری نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais