
علی گڑھ, 30 جولائی (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ٹیکنیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کلب میں غیر تدریسی ملازمین کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس کی صدارت مشترکہ ایکشن کمیٹی برائے غیر تدریسی ملازمین کے کنوینر، ٹیکنیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے سابق سکریٹری اور فیڈریشن آف سینٹرل یونیورسٹیز اسٹاف کے قومی نائب صدر ریحان احمد نے کی۔ اجلاس میں یونیورسٹی کے مختلف شعبوں سے بڑی تعداد میں غیر تدریسی ملازمین نے شرکت کی۔
اجلاس میں عارضی اور ایڈہاک غیر تدریسی ملازمین کی طویل عرصے سے زیر التوا مستقل کئے جانے کے مسئلے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ برسوں سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کی مستقلی میں تاخیر کے باعث ملازمین میں شدید بے چینی اور مایوسی پائی جا رہی ہے۔
اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو مکتوب، یادداشت اور وفد کے ذریعے مطالبہ بھیجا جائے گا کہ احسان خان آفس میمورنڈم اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں گزشتہ ایگزیکٹو کونسل (ای سی) اجلاس میں وائس چانسلر کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات پر غور کے لیے فوری طور پر خصوصی ایگزیکٹو کونسل (اسپیشل ای سی) کا اجلاس طلب کیا جائے اور ملازمین کی مستقلی کے بارے میں جلد حتمی فیصلہ کیا جائے۔
ریحان احمد نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو اس جائز اور دیرینہ مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے جلد فیصلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عارضی اور ایڈہاک ملازمین کو انصاف فراہم کرنا انتظامیہ کی اخلاقی اور انتظامی ذمہ داری ہے۔اجلاس میں نذر حیدر، مشہود راس، محمد امجد، سید محمد انس، انیس شاہ، نثار احمد سمیت بڑی تعداد میں غیر تدریسی ملازمین موجود تھے۔ ملازمین نے متنبہ کیا کہ اگر جلد کوئی مثبت اور ٹھوس فیصلہ نہ لیا گیا تو وہ ایک وسیع اور جمہوری تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ