
نئی دہلی، 29 جولائی(ہ س)۔ سپریم کورٹ مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع بھوج شالا کے قریب نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مناسب جگہ فراہم کرنے کی درخواست پر 30 جولائی کو سماعت کرے گی۔ یہ ہدایت چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ نے دی۔
مسلم فریق کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل حفیظ احمدی نے بدھ کے روز عدالتِ عظمیٰ سے کہا کہ بھوج شالا کے قریب نمازِ جمعہ کے لیے جو جگہ دی جا رہی ہے، وہ کافی دور واقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے سابقہ حکم پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا جا رہا۔
اس پر عدالت نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے سوال کیا کہ مجوزہ مقام کی تفصیلات سینئر وکیل احمدی کے ساتھ کیوں شیئر نہیں کی جا رہیں۔ جواب میں احمدی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نشان زد کی گئی جگہ بھوج شالا سے تقریباً 1.3 کلومیٹر دور ہے اور دھار کے کلکٹر نے واضح کیا ہے کہ فی الحال صرف یہی مقام فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اس پر تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ ایک متبادل مقام کے حوالے سے بھی بات چیت جاری ہے۔ عدالت نے اس معاملے پر مزید سماعت 30 جولائی کو مقرر کر دی۔
اس سے قبل 22 جولائی کو سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ بھوج شالا کے قریب نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے زیادہ مناسب مقام فراہم کرے اور عدالت کے حکم پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
واضح رہے کہ 14 جولائی کو سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ بھوج شالا احاطے کے اندر مسلم برادری کو نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ عدالت نے اس سلسلے میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔مسلم فریق نے درخواست کی تھی کہ ہائی کورٹ کے فیصلے سے پہلے کی صورتِ حال بحال کی جائے، تاہم سپریم کورٹ نے اس مطالبے کو قبول نہیں کیا۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ بھوج شالا کے قریب ہر جمعہ کو دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مناسب جگہ فراہم کی جائے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan