
نئی دہلی، 29 جولائی(ہ س)۔ کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے طلبہ کی تحریک کے دوران دہلی میں مبینہ پولیس کارروائی کے لیے مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ راہل گاندھی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ آج لوک سبھا میں دیے گئے اپنے بیان پر کسی بھی صورت معافی نہیں مانگیں گے۔ ان کا الزام ہے کہ مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر پیلیٹ گن کے استعمال اور لاٹھی چارج جیسی کارروائیاں وزارتِ داخلہ کی معلومات یا منظوری کے بغیر ممکن نہیں تھیں۔
بدھ کے روز کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اگر وہ آج لوک سبھا میں معافی مانگ لیتے تو انہیں ایوان میں اپنی بات رکھنے کی اجازت مل جاتی، لیکن وہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق ان کے لیے سب سے اہم مسئلہ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ کے ساتھ مبینہ طور پر ہونے والا ناروا سلوک اور تشدد ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ 20 جولائی کو طلبہ کے احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے مظاہرین پر پیلیٹ گن کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج کیا، جبکہ حکومت مسلسل اس بات سے انکار کر رہی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ زخمی طلبہ خود پیلیٹ گن کے استعمال کی تصدیق کر رہے ہیں۔
راہل گاندھی نے کہا کہ اس معاملے میں صرف دو امکانات ہیں۔ پہلا یہ کہ وزیرِ داخلہ امت شاہ نے پیلیٹ گن کے استعمال اور لاٹھی چارج کا حکم دیا، تو وہ اس کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ دوسرا یہ کہ اگر انہیں اس کارروائی کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو وہ وزیرِ داخلہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے اہل نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں امت شاہ کو اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی اخلاقی یا آئینی حق نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے خود امت شاہ کو پولیس افسران سے بات کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کو بھی مسلسل امت شاہ کے فون آ رہے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزارتِ داخلہ کو تمام صورتحال کی مکمل معلومات تھیں۔
راہل گاندھی نے کہا کہ دہلی پولیس، سینٹرل ریزرو پولیس فورس(سی آر پی ایف) اور ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) تینوں وزارتِ داخلہ کے ماتحت کام کرتی ہیں، اس لیے طلبہ کے خلاف کی گئی کارروائی کی ذمہ داری براہِ راست وزیرِ داخلہ پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ احتجاج کے دوران طلبہ کو کیل لگی لاٹھیوں سے مارا گیا اور خواتین کے ساتھ بھی تشدد کیا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کارروائی کے دوران کچھ افراد سادہ لباس میں موجود تھے، جن کے بارے میں انہیں شبہ ہے کہ وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) یا بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ ہو سکتے ہیں۔
راہل گاندھی نے بتایا کہ انہوں نے 25 جولائی کو وزیرِ داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھ کر دو سوالات پوچھے تھے۔ پہلا یہ کہ کیا طلبہ کے احتجاج کے دوران پیلیٹ گن کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی؟ دوسرا یہ کہ سادہ لباس میں طلبہ پر حملہ کرنے والے افراد کون تھے؟ انہوں نے کہا کہ اب تک ان دونوں سوالوں کا کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ تعلیم کے نظام میں اصلاحات، سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے، تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور روزگار جیسے اہم مسائل پر احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت کو ان کی بات سننی چاہیے، نہ کہ ان پر طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔
قابلِ ذکر ہے کہ لوک سبھا میں امتحانی ترمیمی بل پر بحث کے دوران بھی راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ پولیس کارروائی اور پیلیٹ گن کے استعمال کے لیے امت شاہ کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ ان کے اس بیان پر حکمراں اتحاد نے سخت اعتراض کیا، جس کے بعد ایوان میں ہنگامہ آرائی ہوئی۔ بعد ازاں راہل گاندھی نے پارلیمنٹ کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے الزامات اور مطالبات کو ایک بار پھر دہرایا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan