
نئی دہلی، 29 جولائی(ہ س)۔بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطائ حسنین نے اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار آرٹس (آئی جی این سی اے) کے شعبہ کلا ندھی کے زیر اہتمام میجر (ریٹائرڈ) سرس ترپاٹھی کی تصنیف ’’گارڈینز آف گلوری: ہیریٹیج اینڈ دی آرمڈ فورسز اِن کشمیر‘‘ کی رسمِ اجرا انجام دی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جنگیں روایتی انداز میں نہیں لڑی جاتیں، بلکہ ہائبرڈ جنگ کے اس دور میں ثقافت اور تہذیبی ورثے کا تحفظ بھی قومی مقاصد میں ایک اہم حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
اس تقریب میں آئی جی این سی اے کے چیئرمین رام بہادر رائے، ساؤتھ ایشین یونیورسٹی کے فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ڈیزائن کے ڈین اور آئی جی این سی اے کے سابق ڈین (انتظامیہ) پروفیسر رمیش سی۔ گور، نیز ڈاکٹر بی آر امبیڈکر یونیورسٹی کے ایس ایچ آر ایم شعبے کے پروفیسر آنند وردھن بھی موجود تھے۔
مقررین نے بھارت کے ثقافتی ورثے کے تحفظ، قومی سلامتی، تہذیبی تسلسل اور مسلح افواج کے ساتھ اس کے تعلق کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
کتاب کی رونمائی کے موقع پر گورنر سید عطائ حسنین نے ہائبرڈ جنگ کے تناظر میں ثقافت اور ورثے کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری پنڈت برادری کی نقل مکانی ایک تہذیبی ورثے کو مٹانے کی کوشش تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس ورثے کی دستاویز بندی، امرناتھ یاترا کی حفاظت اور شاردا پیٹھ کی روایت کی بحالی جیسے اقدامات کشمیر کی کثیرالثقافتی تہذیب کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
رام بہادر رائے نے کہا کہ یہ ایسی کتاب ہے جسے کشمیر میں دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کو ضرور پڑھنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگرچہ یہ کتاب چند گھنٹوں میں پڑھی جا سکتی ہے، لیکن اسے پڑھنے کے بعد قاری میں کشمیر کی تاریخ اور تہذیب کو مزید گہرائی سے جاننے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسیع تحقیق اور مصنف کے فوجی تجربات پر مبنی یہ کتاب کشمیر کے ثقافتی ورثے، مقدس مقامات اور روایات کے تحفظ میں بھارتی فوج کے کردار کی جامع دستاویز ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan