بھوپال میں کسان تحریک شدت اختیار کر گئی، چار حفاظتی حصار توڑ کر وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کی طرف بڑھے کسان، پولیس سے ہاتھا پائی
بھوپال، 29 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں کسانوں کی تحریک بدھ کے روز تیسرے دن مزید شدت اختیار کر گئی۔ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کر رہے کسانوں نے پولیس کی چار سطحی بیریکیڈنگ توڑتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کی، جس کے باعث
بھوپال میں کسان تحریک شدت اختیار کر گئی، چار حفاظتی حصار توڑ کر وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کی طرف بڑھے کسان، پولیس سے ہاتھا پائی


بھوپال، 29 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں کسانوں کی تحریک بدھ کے روز تیسرے دن مزید شدت اختیار کر گئی۔ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کر رہے کسانوں نے پولیس کی چار سطحی بیریکیڈنگ توڑتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کی، جس کے باعث کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھا پائی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔

تحریک کے دوران کچھ کسانوں نے نیم برہنہ ہو کر احتجاج درج کرایا، جبکہ بڑی تعداد میں مظاہرین نعرے بازی کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کی جانب بڑھتے رہے۔ حفاظتی وجوہات کے پیش نظر پورے علاقے کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مونگ کی فصل کی 100 فیصد کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر خریداری، ایم ایس پی کی قانونی ضمانت اور ای-ٹوکن نظام ختم کرنے سمیت مختلف مطالبات کو لے کر کسان گزشتہ تین دنوں سے دارالحکومت میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ کسانوں کا الزام ہے کہ حکومت مسلسل یقین دہانیاں کرا رہی ہے، لیکن ان کے مسائل کا حل نہیں کیا جا رہا۔

کسانوں نے بورڈ آفس چوراہا، کانگریس دفتر، ریڈ کراس اسپتال اور شیواجی چوراہے کے قریب پولیس کی بیریکیڈنگ توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ کئی مقامات پر مظاہرین سڑک روکنے کے لیے کھڑی بسوں پر بھی چڑھ گئے اور انہیں ہٹانے کی کوشش کی۔ پولیس نے اضافی فورس تعینات کرکے صورتحال کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔

احتجاج کے دوران کئی کسانوں نے اپنی قمیضیں اور بنیان اتار کر نیم برہنہ مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب حکومت کسانوں کی آواز نہیں سن رہی تو احتجاج کا یہی راستہ باقی رہ گیا ہے۔ کسانوں نے الزام لگایا کہ انہیں فصلوں کی مناسب قیمت نہیں مل رہی اور معاشی بحران مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔

مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کی رہائش گاہ کے باہر بھی احتجاجی کسان پہنچ گئے اور سڑک پر بیٹھ گئے۔ کسانوں کے مظاہرے کو دیکھتے ہوئے پولیس نے گاڑیاں سڑک پر کھڑی کرکے راستہ مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ موقع پر پولیس کا بم ڈسپوزل دستہ بھی تعینات کیا گیا ہے۔ رہائش گاہ کے باہر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار موجود ہیں اور حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

مظاہرین میں شامل دشرتھ پٹیل نے کہا کہ کسان کسی سے بھیک نہیں مانگ رہے بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگایا۔

تحریک میں شامل کچھ خواتین نے کہا کہ انہیں لاڈلی بہنا یوجنا کی رقم نہیں چاہیے بلکہ اپنی مونگ کی فصل کی مناسب قیمت چاہیے۔ کسان تحریک کی حمایت میں رائے سین سے بھوپال پہنچی پرینکا رگھوونشی نے حکومت سے کسانوں کے مطالبات جلد پورے کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کسانوں کے مطالبات پورے نہیں کرتی تو وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande