
نئی دہلی، 29 جولائی(ہ س)۔ لوک سبھا نے سرکاری امتحانات میں پیپر لیک کے واقعات کی روک تھام کے لیے موجودہ قانون کو مزید سخت بنانے والے پبلک امتحانات کے غلط طور طریقوں پر روک تھام ترمیمی بل، 2026 کو بدھ کے روز ہنگامہ آرائی کے درمیان صوتی ووٹوں سے منظور کر لیا۔ بل پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے وزیراعظم دفتر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ انہیں تعمیری تجاویز کی امید تھی، لیکن افسوس کہ اس حساس مسئلے پر بھی سیاست کرنے کی کوشش کی گئی۔
بل پر منگل سے جاری بحث کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس پر تقریباً 40 سے 45 ارکان نے حصہ لیا اور مختلف تجاویز پیش کیں، تاہم قائدِ حزبِ اختلاف کے رویے پر انہیں حیرت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف نے جن الفاظ کا استعمال کیا وہ نہ صرف پارلیمانی روایات کے خلاف تھے بلکہ ایوان کے وقار اور جمہوری اقدار کے بھی منافی تھے۔
انہوں نے بتایا کہ جنوری 2024 میںپبلک امتحانات میں غلط طورطریقوں کے روک تھام ایکٹ کو نافذ کیا گیا تھا، لیکن حالیہ واقعات اور ماہرین کی آرائ کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے اسے مزید مؤثر اور سخت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے بھی یہ قابل گرفت جرم، ناقابلِ ضمانت اور ناقابلِ مصالحت تھا، تاہم اب اس کی سزاؤں اور جرمانوں میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔
وزیرِ مملکت کے مطابق امتحانی بدعنوانی میں ملوث افراد کے لیے سزا تین سے پانچ سال کے بجائے پانچ سے دس سال کر دی گئی ہے، جبکہ جرمانہ بڑھا کر 50 لاکھ روپے تک کر دیا گیا ہے۔ امتحانات کے انعقاد سے وابستہ سروس فراہم کرنے والی ایجنسیوں پر زیادہ سے زیادہ جرمانہ ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر پانچ کروڑ روپے کر دیا گیا ہے اور انہیں آٹھ برس تک امتحانات کے انعقاد سے محروم رکھا جا سکے گا۔ کمپنیوں کے ڈائریکٹروں اور انتظامیہ سے وابستہ قصوروار افراد کے لیے بھی سزا اور جرمانے میں اضافہ کیا گیا ہے۔ منظم جرائم کے معاملات میں کم از کم سزا سات سال اور جرمانہ دس کروڑ روپے تک مقرر کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ 2024 میں قانون نافذ ہونے کے بعد کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں اس قانون کے تحت 52 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں، جن میں 29 مقدمات غلط طور طریقوں کی روک تھام سے متعلق جبکہ 23 مقدمات بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت درج کیے گئے۔انہوں نے حالیہ پیپر لیک معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت کو اس کی اطلاع 7 اور 8 جولائی کی درمیانی شب ملی، جس کے بعد 12 جولائی کو تفتیش مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) کے سپرد کر دی گئی۔ اگلے ہی دن 13 افراد کو حراست میں لیا گیا اور تقریباً 92 مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ ان کے مطابق سی بی آئی نے تیزی سے تحقیقات مکمل کر کے چارج شیٹ داخل کر دی ہے اور نئے قانون کے تحت مقدمے کی سماعت بھی شروع ہو چکی ہے، جس سے تقریباً پانچ ماہ کے اندر فیصلہ آنے کی توقع ہے۔اپنی حکومت کی تعلیمی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں نمایاں توسیع ہوئی ہے۔ ملک میں جامعات کی تعداد 760 سے بڑھ کر 1,293 ہو گئی ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تعداد 51,534 سے بڑھ کر 64,896 تک پہنچ گئی ہے۔ اسی عرصے میں قبائلی طلبہ کے لیے ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 نافذ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ طبی تعلیم کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ایمز اداروں کی تعداد 7 سے بڑھ کر 22 ہو گئی ہے، جبکہ سرکاری میڈیکل کالجوں کی تعداد 387 سے بڑھ کر 844 تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح ایم بی بی ایس کی نشستیں تقریباً 51,300 سے بڑھ کر 1.39 لاکھ ہو گئی ہیں، جبکہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل نشستوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق ان اقدامات سے ملک میں ڈاکٹروں کی دستیابی میں اضافہ ہوگا۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ خودکشی ایک نہایت حساس مسئلہ ہے اور اس کے اعداد و شمار پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق حالیہ برسوں میں پیپر لیک سے متعلق وجوہات کے باعث خودکشی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ نئے اور سخت قانون سے سرکاری امتحانات میں شفافیت بڑھے گی اور طلبہ کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
طلبہ کے احتجاج کے دوران کارروائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پوری کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ کسی قسم کا جانی نقصان نہ ہو۔ ان کے مطابق انتظامیہ کا مقصد صرف امن و قانون برقرار رکھنا تھا، کسی کو نقصان پہنچانا نہیں۔ انہوں نے اس الزام کی بھی تردید کی کہ وزیرِ داخلہ نے طلبہ پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گولی چلانے کا اختیار کسی وزیر کے پاس نہیں بلکہ یہ اختیار صرف ایگزیکٹو مجسٹریٹ، جیسے ایس ڈی ایم یا ڈی ایم، کو حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے صرف آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔انہوں نے آسام تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کو نشانہ بنایا اور کہا کہ 1969 سے 1984 کے درمیان کانگریس حکومت کے دور میں آل آسام اسٹوڈنٹس یونین کی تحریک کے دوران تقریباً 860 بے گناہ افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت طلبہ کی تھی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بحث کے دوران یہ دعویٰ کیا گیا کہ 150 مرتبہ پیپر لیک ہوئے اور 750 کروڑ طلبہ متاثر ہوئے، لیکن حکومت کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اعداد و شمار بغیر کسی ثبوت کے پیش کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پارلیمنٹ میں بحث صرف حقائق اور مستند شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
آخر میں انہوں نے قائدِ حزبِ اختلاف کی جانب سے وزیراعظم کی رہائش گاہ 7، لوک کلیان مارگ کے باہر دھرنا دینے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ ان کی مایوسی اور ناکامی کی عکاسی کرتا ہے کہ وزیراعظم نہ بن سکنے کی وجہ سے وہ خود وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج پر بیٹھ گئے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan