دہلی پولیس کی مبینہ زیادتی کی شکایت روزنامچہ میں درج کرنے کا ہائی کورٹ کا حکم
نئی دہلی، 29 جولائی(ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کو ہدایت دی ہے کہ دہلی پولیس کی مبینہ زیادتی کے خلاف دائر کی گئی شکایت کو روزنامچہ (ڈیلی ڈائری) میں درج کیا جائے۔ یہ حکم جسٹس پرتیک جالان کی بنچ نے جاری کیا۔ یہ عرضی آنند ل
دہلی پولیس کی مبینہ زیادتی کی شکایت روزنامچہ میں درج کرنے کا ہائی کورٹ کا حکم


نئی دہلی، 29 جولائی(ہ س)۔

دہلی ہائی کورٹ نے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کو ہدایت دی ہے کہ دہلی پولیس کی مبینہ زیادتی کے خلاف دائر کی گئی شکایت کو روزنامچہ (ڈیلی ڈائری) میں درج کیا جائے۔ یہ حکم جسٹس پرتیک جالان کی بنچ نے جاری کیا۔

یہ عرضی آنند لیگل ایڈ فورم ٹرسٹ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں الزام لگایا گیا کہ 20 جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی کے پارلیمنٹ مارچ کے دوران دہلی پولیس نے مظاہرین کے ساتھ زیادتی کی۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے میں تحریری شکایت بھی دی گئی، لیکن شکایت وصول ہونے کی کوئی رسید یا تصدیقی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے میں طویل انتظار کے باوجود انہیں شکایت کی وصولی کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ مزید یہ کہ اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) نے شکایت کو ڈیلی ڈائری میں درج نہیں کیا، جس کے باعث شکایت کا ڈی ڈی نمبر بھی جاری نہیں کیا گیا۔عرضی میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ درخواست گزار کی شکایت کو ڈی ڈی نمبر کے ساتھ درج کرنے کا حکم دیا جائے، کیونکہ شکایت میں قابلِ دست اندازیِ پولیس(سنجیدہ/قابلِ تعزیر) جرم کی اطلاع دی گئی ہے۔

درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی کہ دہلی کے تمام پولیس تھانوں میں سٹیزن چارٹر اور اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) نافذ کیا جائے، تاکہ ایف آئی آر فوری طور پر درج کی جا سکے یا ابتدائی جانچ بلا تاخیر شروع کی جا سکے۔عرضی میں سپریم کورٹ کے للیتا کماری بنام حکومتِ اتر پردیش فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا تھا کہ قابلِ دست اندازیِ پولیس جرم کی اطلاع ملنے پر ایف آئی آر درج کرنا لازمی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande