
نئی دہلی، 29 جولائی (ہ س)۔ بہار کی بانکی پور، مدھیہ پردیش کی دتیا اور گجرات کی مانجل پور اسمبلی نشستوں پر 30 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن اور متعلقہ ریاستی انتظامیہ نے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ تینوں ریاستوں میں پرامن اور آزادانہ ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ حساس پولنگ اسٹیشنوں پر مرکزی سکیورٹی فورسز کی تعیناتی، اضافی پولیس فورس، ویب کاسٹنگ، سی سی ٹی وی نگرانی، ڈرون، کوئیک رسپانس ٹیم (کیو آر ٹی) اور مائیکرو آبزرورز کا انتظام کیا گیا ہے۔ تینوں نشستوں کے لیے ووٹنگ صبح 7 بجے سے شام 6 بجے تک ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 3 اگست کو کی جائے گی۔
تینوں اسمبلی حلقوں میں ضمنی انتخابات مختلف وجوہات کی بنا پر ہو رہے ہیں، تاہم سیاسی اعتبار سے تینوں نشستیں نہایت اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ بہار کی بانکی پور نشست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین کے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے کر راجیہ سبھا جانے کے بعد خالی ہوئی۔ مدھیہ پردیش کی دتیا نشست کانگریس کے سابق رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کی رکنیت ختم ہونے کے باعث خالی ہوئی، جبکہ گجرات کی مانجل پور نشست بی جے پی کے سینئر رکن اسمبلی اور سابق وزیر یوگیش پٹیل کے انتقال کے بعد خالی ہوئی۔
بہار کی 182-بانکی پور اسمبلی نشست پر مجموعی طور پر 3,79,616 ووٹر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ان میں تقریباً دو لاکھ مرد، 1,79,533 خواتین اور 23 خواجہ سرا ووٹر شامل ہیں۔ ووٹنگ کے لیے 422 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 247 سرکاری اور 175 نجی عمارتوں میں قائم ہیں۔ ووٹروں کی سہولت کے لیے 29 موبائل پولنگ اسٹیشن بھی بنائے گئے ہیں۔
پٹنہ کے ضلع مجسٹریٹ اور ریٹرننگ افسر کندن کمار اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کارتکیہ شرما نے بتایا کہ تمام پولنگ اسٹیشنوں پر ویب کاسٹنگ کا انتظام ہوگا۔ پولنگ اسٹیشن کے اندر موبائل فون لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ باہر موبائل جمع کرانے کی سہولت دستیاب رہے گی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے منظور شدہ 12 متبادل تصویری شناختی دستاویزات کی بنیاد پر بھی ووٹ ڈالا جا سکے گا۔
اس ضمنی انتخاب کے لیے 40 امیدواروں نے نامزدگی داخل کی تھی۔ جانچ کے بعد 26 نامزدگیاں درست پائی گئیں۔ ایک امیدوار کے نام واپس لینے کے بعد اب 25 امیدوار میدان میں ہیں۔ اصل مقابلہ بی جے پی کے نیرج کمار، جن سوراج پارٹی کے سربراہ پرشانت کشور اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی ریکھا گپتا کے درمیان مانا جا رہا ہے۔
سال 2025 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے نتن نوین نے 98,299 ووٹ (62.66 فیصد) حاصل کرکے آر جے ڈی کی ریکھا گپتا کو 51,936 ووٹوں سے شکست دی تھی۔ ریکھا گپتا کو 46,363 ووٹ (29.55 فیصد) جبکہ جن سوراج کے امیدوار کو 7,717 ووٹ (4.92 فیصد) ملے تھے۔ اس بار بی جے پی کی جانب سے نئے امیدوار کو میدان میں اتارنے اور پرشانت کشور کے خود انتخاب لڑنے سے مقابلہ مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔
مدھیہ پردیش کی دتیا اسمبلی نشست پر مجموعی طور پر 291 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 233 کو حساس اور 28 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ اسمبلی حلقے میں کل 2,20,410 ووٹر ہیں، جن میں 1,16,116 مرد، 1,04,284 خواتین اور 10 دیگر ووٹر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 1,372 معذور ووٹر، 1,237 بزرگ شہری اور 443 سروس ووٹر بھی ووٹ ڈالیں گے۔
دتیا میں ایک پنک پولنگ اسٹیشن اور ایک ماڈل پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔ معذور ووٹروں کے لیے ریمپ اور وہیل چیئر کی سہولت والے خصوصی پولنگ اسٹیشن بھی بنائے گئے ہیں۔ انتخابی عمل کے لیے 1,280 پولنگ اہلکار اور 215 مائیکرو آبزرورز تعینات کیے گئے ہیں۔ ضلع کی سرحدوں پر 12 بین الریاستی چیک پوسٹ قائم کی گئی ہیں، جہاں گاڑیوں کی مسلسل تلاشی لی جا رہی ہے۔ شکایات کے فوری ازالے کے لیے 24 گھنٹے فعال کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے۔
ضلع الیکشن افسر اور کلکٹر سپنل وانکھیڑے نے کہا کہ آزاد، منصفانہ اور بے خوف ووٹنگ انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ میور کھنڈیلوال نے بتایا کہ سی آر پی ایف، ایس ایس بی، سی آئی ایس ایف، ایس اے ایف، ضلعی پولیس اور ہوم گارڈ کے اہلکار پورے ضلع میں تعینات رہیں گے۔
دتیا نشست پر مجموعی طور پر 21 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ سال 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے راجیندر بھارتی نے بی جے پی کے سینئر رہنما نروتم مشرا کو 7,742 ووٹوں سے شکست دی تھی، تاہم بعد میں جعلسازی کے ایک مقدمے میں سزا یافتہ قرار دیے جانے کے بعد ان کی اسمبلی رکنیت ختم کر دی گئی، جس کے باعث یہاں ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔
ادھر گجرات کے ضلع وڈودرا کی مانجل پور اسمبلی نشست پر بھی 30 جولائی کو ووٹنگ ہوگی۔ اس حلقے میں کل 2,19,494 ووٹر ہیں، جن میں 1,11,645 مرد، 1,07,847 خواتین اور 2 خواجہ سرا ووٹر شامل ہیں۔ ووٹنگ کے لیے 62 مقامات پر 260 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔
تمام پولنگ اسٹیشنوں پر ریمپ، پینے کے پانی، بجلی اور بیت الخلا جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ دو پولنگ اسٹیشن مکمل طور پر خواتین عملے جبکہ دو پولنگ اسٹیشن معذور عملے کے ذریعے چلائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 5 ماڈل پولنگ اسٹیشن بھی قائم کیے گئے ہیں۔ تمام بوتھوں پر سی سی ٹی وی نگرانی اور سو فیصد ویب کاسٹنگ کا انتظام ہوگا۔ پہلی بار پولنگ اسٹیشنوں کے باہر موبائل فون جمع کرانے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
بارش کے امکان کے پیش نظر پولنگ اسٹیشنوں پر واٹر پروف ٹینٹ، عارضی شیلٹر، قطاروں کے نظم و نسق کے لیے خصوصی ٹیمیں اور پانی جمع ہونے والے علاقوں میں نکاسی آب کے لیے پمپ لگائے گئے ہیں۔ پریذائیڈنگ افسران الیکشن کمیشن کی ایپ کے ذریعے ہر دو گھنٹے بعد ووٹنگ کی شرح کی معلومات فراہم کریں گے۔
انتخابی حکام کے مطابق 22 اور 23 جولائی کو گھر سے ووٹنگ کی سہولت کے تحت 107 ووٹروں نے ووٹ ڈالے، جن میں 90 بزرگ شہری شامل تھے۔ مکرپورہ کے بھارتیہ ودیا بھون کو ڈسپیچ سینٹر، ریسیونگ سینٹر، اسٹرونگ روم اور ووٹوں کی گنتی کا مرکز بنایا گیا ہے۔ انتخابی نگرانی کے لیے 9 فلائنگ اسکواڈ، 3 اسٹیٹک سرویلنس ٹیمیں، 2 ویڈیو سرویلنس ٹیمیں اور ایک اینٹی ڈیفیسمنٹ ٹیم تعینات کی گئی ہے۔
ضلع کلکٹر انل دھامیلیا نے بتایا کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر موبائل فون لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ووٹر الیکشن کمیشن کی جانب سے منظور شدہ 12 متبادل شناختی دستاویزات میں سے کسی ایک کی بنیاد پر ووٹ ڈال سکیں گے، جبکہ رجسٹرڈ این آر آئی ووٹروں کو اصل پاسپورٹ پیش کرنا ہوگا۔ بزرگ اور معذور ووٹروں کے لیے وہیل چیئر اور رضاکاروں کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
مانجل پور نشست بی جے پی کے سینئر رکن اسمبلی اور سابق وزیر یوگیش پٹیل کے انتقال کے بعد خالی ہوئی ہے۔ جانچ اور نامزدگی واپس لینے کے عمل کے بعد اصل مقابلہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان رہ گیا ہے۔ بی جے پی نے ستیش (ستیندر) پٹیل کو امیدوار بنایا ہے، جبکہ کانگریس نے بھیکھا رباری کو میدان میں اتارا ہے۔
تینوں ریاستوں کے ان ضمنی انتخابات پر سیاسی جماعتوں کی گہری نظر ہے۔ بہار میں بانکی پور نشست بی جے پی کی سیاسی ساکھ سے جڑی سمجھی جا رہی ہے، جبکہ دتیا میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان براہِ راست مقابلہ ہے۔ گجرات کی مانجل پور نشست پر بی جے پی کو اپنے روایتی گڑھ کو برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔ ایسے میں 30 جولائی کی ووٹنگ اور 3 اگست کو آنے والے نتائج تینوں ریاستوں کی سیاست کے لیے اہم اشارے تصور کیے جا رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد