لوک سبھا میں پیدائش و اموات کے اندراج سے متعلق ترمیمی بل پیش، ریکارڈ مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوں گے، تاخیر پر سخت ضوابط نافذ
نئی دہلی، 29 جولائی(ہ س)۔ لوک سبھا میں بدھ کے روز پیدائش و اموات کے اندراج(ترمیمی) بل، 2026 پیش کیا گیا۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان یہ بل ایوان میں پیش کیا۔ اس بل کا مقصد ملک بھر میں پیدائش اور اموات کے
لوک سبھا میں پیدائش و اموات کے اندراج سے متعلق ترمیمی بل پیش، ریکارڈ مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوں گے، تاخیر پر سخت ضوابط نافذ


نئی دہلی، 29 جولائی(ہ س)۔ لوک سبھا میں بدھ کے روز پیدائش و اموات کے اندراج(ترمیمی) بل، 2026 پیش کیا گیا۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان یہ بل ایوان میں پیش کیا۔ اس بل کا مقصد ملک بھر میں پیدائش اور اموات کے ریکارڈ کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا اور جعلی دستاویزات کے استعمال پر روک لگانا ہے۔

نئے بل کے تحت پیدائش اور اموات کے اندراج میں تاخیر کی صورت میں سخت ضابطے نافذ کیے جائیں گے۔ اگر رجسٹریشن میں ایک سے دو سال کی تاخیر ہوتی ہے تو ضلع مجسٹریٹ، سب ڈویژنل مجسٹریٹ یا ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی تحریری منظوری لازمی ہوگی۔ جبکہ دو سال سے زیادہ تاخیر ہونے کی صورت میں معاملہ براہِ راست عدالت میں جائے گا، اور جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کے حکم کے بعد ہی سرٹیفکیٹ جاری کیا جا سکے گا۔اس قانون کے تحت ملک بھر کے پیدائش اور اموات کے تمام ریکارڈ کو ایک مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے گا۔ اس کے ذریعے ملک کے کسی بھی حصے میں ہونے والی پیدائش یا موت کی معلومات ایک ہی آن لائن پلیٹ فارم پر دستیاب ہوں گی۔

اس ڈیٹا بیس کو ووٹر لسٹ، راشن کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر قومی شناختی دستاویزات سے بھی مربوط کیا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں جب کوئی شہری 18 سال کا ہوگا تو اس کا نام خودکار طور پر ووٹر لسٹ میں شامل ہو جائے گا، جبکہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کا نام سرکاری ریکارڈ سے آسانی سے حذف کیا جا سکے گا۔ حکومت کے مطابق اس اقدام سے سرکاری فلاحی منصوبوں میں بے ضابطگیوں اور جعلی طریقے سے فوائد حاصل کرنے کے واقعات پر مؤثر روک لگانے میں مدد ملے گی۔

مجوزہ قانون نافذ ہونے کے بعد پیدائش کا سرٹیفکیٹ سب سے اہم سرکاری دستاویز بن جائے گا۔ اب تک اسکول میں داخلہ، ڈرائیونگ لائسنس، سرکاری ملازمت یا دیگر مقاصد کے لیے مختلف دستاویزات استعمال کیے جاتے تھے، لیکن اس بل کی منظوری کے بعد پیدائش کا سرٹیفکیٹ ہی عمر اور شناخت کا واحد سرکاری ثبوت تصور کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande