حکومت اور سماجی تنظیمیں مل کر 2030 تک بچوں کی شادی سے پاک ہندوستان کا ہدف حاصل کریں گی: ساوتری ٹھاکر
نئی دہلی، 28 جولائی (ہ س)۔ خواتین اور اطفال کی ترقی کی مرکزی وزیر مملکت ساوتری ٹھاکر نے کہا کہ حکومت، عوام اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے تعاون سے 2030 تک بچوں کی شادی سے پاک ہندوستان کا ہدف حاصل کر لے گی۔ ساوتری ٹھاکر منگل کوکانسٹی ٹیوشن کلب میں بچ
بچہ


نئی دہلی، 28 جولائی (ہ س)۔ خواتین اور اطفال کی ترقی کی مرکزی وزیر مملکت ساوتری ٹھاکر نے کہا کہ حکومت، عوام اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے تعاون سے 2030 تک بچوں کی شادی سے پاک ہندوستان کا ہدف حاصل کر لے گی۔ ساوتری ٹھاکر منگل کوکانسٹی ٹیوشن کلب میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی 250 سے زیادہ سول سوسائٹی تنظیموں کا نیٹ ورک جسٹ رائٹس فار چلڈرن کے ملک بھر سے آئے نمائندے سے ”انشیورنگ اے چائلڈ رائٹس پوٹینشیل اینڈ پروسپرٹی“ کے موضوع پر چار روزہ قومی مشاورت کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے شعبے میں کام کرنا انتہائی چیلنجنگ ہے لیکن حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے سے آپ تمام چیلنجز پر قابو پا رہے ہیں۔ نوجوان لڑکیاں سمگلنگ کا شکار ہو جاتی ہیں اور کبھی گھر واپس نہیں آتیں۔ ایسی لڑکیاں کسی فرشتے کی منتظر ہوتی ہیں اور انہیں جنسی استحصال کی دلدل سے نکالنے والے سول سوسائٹی کے رضاکار بھی فرشتوں سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی 2030 تک کم عمری کی شادی کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ بچوں کی شادی سے پاک ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے متعدد اسکیمیں نافذ کی گئی ہیں۔ انہوں نے اس مہم کو حاصل کرنے کے لیے جسٹ رائٹس فار چلڈرن کی ان کی کوششوں کی ستائش کی اور کہا کہ بچوں کی شادی سے پاک ہندوستان کے خواب کو حاصل کرنے میں بچوں کے حقوق کے لیے جو تعاون دیا گیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔ اس موقع پر، بچوں کے لیے اراکین پارلیمان کے کنوینر اور لوک سبھا میں تیلگو دیشم پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے رہنما، لاو کرشنا دیورائیلو نے کہا کہ بچوں کی شادی کے خلاف جسٹ رائٹس فار چلڈرن تحریک اب دنیا بھر میں پھیل رہی ہے۔ یہ ایک غیر معمولی کوشش ہے اور بھارت نے ثابت کیا ہے کہ کم عمری کی شادی کا خاتمہ ممکن ہے۔ جسٹ رائٹس فار چلڈرن کے بانی اور بچوں کے حقوق کے مشہور کارکن بھوون ریبھو نے کہا، 27 نومبر 2024 کو چائلڈ میرج فری انڈیا مہم کے ذریعے بھڑکائی گئی چنگاری تیزی سے ایک ملک گیر تحریک میں بدل گئی ہے۔ تب سے، یہ تحریک ایک جامع وشن میں تبدیل ہو گئی ہے، جب کہ ہر بچے کو بااختیار بنانے، ٹکنالوجی اور انصاف کے ذریعے بچوں کو بااختیار بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ حکومتیں، سول سوسائٹی، کمیونٹیز اور نوجوان ایک مشترکہ مقصد کے ارد گرد متحد ہو جائیں، یہ اب صرف ہندوستان کی کہانی نہیں ہے، یہ پوری دنیا کے لیے ایک پیغام ہے کہ کوئی بھی ملک بچوں میں سب سے اہم سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی ہم کسی گاو¿ں میں بچپن کی شادی کو روکتے ہیں، ہم صرف ایک بچے کی حفاظت نہیں کر رہے ہیں، بلکہ پوری کمیونٹی کو یہ واضح پیغام دے رہے ہیں کہ جدید معاشرے میں بچپن کی شادی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ حکومت کے ساتھ مل کر، ہم نے گزشتہ تین سالوں میں 550,000 سے زیادہ بچوں کی شادیوں کو روکا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande