
نئی دہلی، 28 جولائی (ہ س)۔ اپوزیشن کے مسلسل ہنگامے کے درمیان مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) ڈیولپمنٹ (ترمیمی) بل، 2026، منگل کو راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا۔ ایوان میں مسلسل ہنگامہ آرائی کے بعد ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے کارروائی بدھ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی۔
دوپہر کے کھانے کے وقفے کے بعد جیسے ہی ایوان کا اجلاس شروع ہوا، ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے حکومتی قانون سازی کا کام شروع کیا اور مرکزی وزیر برائے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز جیتن رام مانجھی کو مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ (ترمیمی) بل، 2026 پیش کرنے کی اجازت دی۔
بل کا تعارف کرتے ہوئے مانجھی نے کہا کہ 2006 میں نافذ ہونے والے ایم ایس ایم ای ڈیولپمنٹ ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت کو وقت کے ساتھ تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترامیم کا مقصد ایم ایس ایم ای یونٹوں کو بروقت ادائیگیوں کو یقینی بنانے کے لیے انتظامات کو مزید موثر بنانا، خلاف ورزیوں کے لیے سزاو¿ں کو مزید سخت بنانا اور جرمانے کی دفعات کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترمیم کے ذریعے کاروبار سے متعلق کچھ عمل کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو اپنے واجبات کی ادائیگی میں آسانی ہوگی اور کاروباری لین دین میں مزید شفافیت آئے گی۔
اس دوران، اپوزیشن اراکین نے نعرے لگاتے ہوئے قومی راجدھانی میں نیٹ پیپر لیک پر مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے اس معاملے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ایوان میں بیان دینے کا مطالبہ کیا، جب کہ حکمراں جماعت نے اس کی مخالفت کی۔
مسلسل ہنگامہ آرائی کے درمیان ڈپٹی چیئرمین نے اپوزیشن ارکان سے اپیل کی کہ وہ ایوان کی کارروائی کو چلنے دیں، لیکن شور نہ رکنے کی وجہ سے راجیہ سبھا کی کارروائی 29 جولائی کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی