
نئی دہلی، 28 جولائی(ہ س)۔
مرکزی حکومت نے منگل کے روز امرتسر ہوائی اڈے سے ہب اینڈ اسپوک ماڈل کے تحت بین الاقوامی پروازی سہولت کا آغاز کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی وارانسی کے بعد امرتسر اس جدید نظام سے جڑنے والا ملک کا دوسرا ہوائی اڈہ بن گیا ہے۔
شہری ہوا بازی کی وزارت کے مطابق، اس نئی سہولت کے تحت امرتسر سے سفر کرنے والے مسافر اب دہلی کے عالمی فضائی نیٹ ورک سے براہِ راست فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اس سے قبل امرتسر سے صرف سات بین الاقوامی مقامات کے لیے براہِ راست پروازیں دستیاب تھیں، جبکہ اب مسافر 20 سے زائد عالمی منزلوں تک زیادہ آسانی سے پہنچ سکیں گے۔
مرکزی وزیر شہری ہوا بازی کے رام موہن نائیڈو نے ویڈیو پیغام کے ذریعے کہا کہ ہب اینڈ اسپوک ماڈل صرف ایک فضائی نظام نہیں بلکہ بین الاقوامی رابطوں کو مضبوط بنانے کا اہم ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق دہلی مرکزی ہب کے طور پر کام کرے گا، جبکہ امرتسر پنجاب، جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش کے لیے اہم بین الاقوامی گیٹ وے بن جائے گا۔انہوں نے کہا کہ امرتسر کو اس نئی سہولت سے سب سے زیادہ فائدہ ہوگا کیونکہ یہاں سے بڑی تعداد میں تارکینِ وطن اور بیرونِ ملک سفر کرنے والے افراد آتے جاتے ہیں۔ اب مسافر ایک ہی چیک اِن اور ایک ہی بیگیج ٹیگ کے ذریعے اپنی پوری بین الاقوامی سفر مکمل کر سکیں گے، جس سے سفر پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان اور سہل ہو جائے گا۔وزارت کے مطابق ہر سال تقریباً ڈیڑھ لاکھ مسافر امرتسر سے دہلی جا کر بین الاقوامی پروازیں پکڑتے ہیں، جبکہ اتنی ہی تعداد میں بیرونِ ملک سے دہلی کے راستے امرتسر پہنچتے ہیں۔ نئی سہولت کے بعد اس تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
نئے نظام کے تحت بین الاقوامی مسافر امرتسر ہوائی اڈے پر ہی چیک اِن، امیگریشن اور کسٹمز کی تمام کارروائیاں مکمل کریں گے، جبکہ ان کا سامان براہِ راست آخری بین الاقوامی منزل تک بھیج دیا جائے گا۔ دہلی پہنچنے پر انہیں دوبارہ امیگریشن یا کسٹمز کے مراحل سے نہیں گزرنا پڑے گا اور وہ سیدھے اپنی اگلی بین الاقوامی پرواز میں سوار ہو سکیں گے۔
واضح رہے کہ بھارت میں ہب اینڈ اسپوک ماڈل کا آغاز 25 جون 2026 کو وارانسی ہوائی اڈے سے کیا گیا تھا۔ وزارت کے مطابق اس ماڈل سے نہ صرف مسافروں کو بہتر سہولتیں ملیں گی بلکہ 2030 تک معیشت میں تقریباً 30 ارب امریکی ڈالر کا اضافی حصہ شامل ہونے اور لاکھوں براہِ راست و بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی بھی توقع ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan