ابھیشیک بنرجی کے عام تلا دفتر پر فی الحال بلڈوزر نہیں چلے گا، کلکتہ ہائی کورٹ نے 6 اگست تک لگائی روک
کولکاتا، 28 جولائی(ہ س)۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے عام تلا میں واقع پارٹی دفتر کو منہدم کرنے کی کارروائی پر فی الحال روک برقرار رکھتے ہوئے 6 اگست تک موجودہ صورتِ حال برقرار رکھنے
ابھیشیک بنرجی کے عام تلا دفتر پر فی الحال بلڈوزر نہیں چلے گا، کلکتہ ہائی کورٹ نے 6 اگست تک لگائی روک


کولکاتا، 28 جولائی(ہ س)۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے عام تلا میں واقع پارٹی دفتر کو منہدم کرنے کی کارروائی پر فی الحال روک برقرار رکھتے ہوئے 6 اگست تک موجودہ صورتِ حال برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس شبھرا گھوش نے سماعت کے دوران کہا کہ معاملے کی آئندہ سماعت 6 اگست کو دوپہر دو بجے ہوگی۔

سماعت کے دوران ریاستی حکومت نے عدالت سے عبوری حکم ختم کرنے کی درخواست کی۔ ریاست کے مہاایڈووکیٹ سرجیت ناتھ متر نے موقف اختیار کیا کہ عبوری روک ہٹانے کی درخواست پر جلد سماعت کی جائے۔ دوسری جانب، ابھیشیک بنرجی کی کمپنی لپس اینڈ باؤنڈز کی طرف سے سینئر وکیل کشور دتہ نے عبوری تحفظ کی مدت بڑھانے کی اپیل کی، جبکہ ترنمول کانگریس نے بھی انہدامی کارروائی کے خلاف الگ درخواست دائر کی۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں تین مختلف درخواستیں زیرِ سماعت ہیں، اس لیے ان پر ایک ساتھ غور کیا جانا ضروری ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے 6 اگست تک جمود برقرار رکھنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

عام تلا میں واقع پانچ منزلہ عمارت پر غیر قانونی تعمیر کا الزام ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے 18 جولائی کو عمارت کے ایک حصے کو منہدم کیا تھا، جس کے بعد پوری رات دفتر سے سامان منتقل کیا گیا اور اگلے روز دوبارہ انہدامی کارروائی شروع کی گئی۔ اس دوران بلڈوزر کے ساتھ ایئر کمپریسر، وائبریٹر اور دیگر جدید مشینوں کا بھی استعمال کیا گیا۔

کارروائی کے بعد ابھیشیک بنرجی نے دعویٰ کیا تھا کہ عمارت کی تعمیر تمام قانونی تقاضوں اور منظور شدہ نقشے کے مطابق کی گئی ہے، لہٰذا اسے منہدم کرنے کی کارروائی غیر منصفانہ اور بلاجواز ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی فریق سماعت میں حاضر نہیں ہوا، جبکہ ابھیشیک بنرجی کا مؤقف ہے کہ ان کی جانب سے ایک نمائندہ سماعت میں موجود تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande