
تہران/واشنگٹن، 27 جولائی (ہ س)۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حملے فی الحال رک گئے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز میں صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا۔ امریکہ نے فی الحال ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں روک دی ہیں، جبکہ تقریباً دو ہفتوں تک جاری بمباری کے بعد تہران نے بھی اس خطے میں اپنے جوابی حملے معطل کر دیے ہیں۔
الجزیرہ اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ امریکی فوج کے پاس گولہ بارود کی کمی ہو گئی ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکہ ماضی میں مذاکرات کو نقصان پہنچا چکا ہے، تاہم اس کے باوجود تہران اور واشنگٹن ثالث ممالک کے ذریعے ایک دوسرے کو پیغامات بھیج رہے ہیں۔
ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والا ایک تیل بردار ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر دھماکے کا شکار ہوا۔ حکام کے مطابق یہ ٹینکر ایرانی حکام کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔ آبنائے ہرمز میں یہ واقعہ دو روز کے نسبتاً پُرسکون وقفے کے بعد پیش آیا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے اتوار کو کہا کہ ایران کے فوجی ٹھکانوں پر مسلسل تیرہویں رات فضائی حملوں کے بعد صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے غیر معینہ مدت تک حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر پاکستان، قطر اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک امریکہ اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
ایرانی فوج نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے اتحادی ممالک پر اپنے جوابی حملے روک دیے ہیں۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘پر مصنوعی ذہانت(اے آئی) سے تیار کردہ چند تصاویر شیئر کی ہیں، جن میں امریکہ کی فوجی طاقت کو نمایاں کرتے ہوئے اسے ’دنیا کا محافظ‘ قرار دیا گیا ہے۔ ان تصاویر کو امریکہ کے سیاسی عزائم کی عکاسی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan