
کاٹھمنڈو، 27 جولائی(ہ س)۔ نیپال کے سرحدی ضلع سنسری کے دیوان گنج گاؤں کے علاقے کپتان گنج میں بول بم کانوڑ یاترا کے دوران دو گروپوں کے درمیان جھڑپ کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ پولیس کے مطابق بڑھتے ہوئے تصادم کو قابو میں لانے کے لیے مسلح پولیس کی فائرنگ میں ایک نوجوان ہلاک ہو گیا، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔پولیس نے متوفی کی شناخت 24 سالہ اوم پرکاش مہتا کے طور پر کی ہے، جو کپتان گنج کا رہائشی تھا۔
سنسری کے ڈی ایس پی چندر بہادر کھڈکا کے مطابق، گولی لگنے سے شدید زخمی ہونے والے اوم پرکاش مہتا کو علاج کے لیے وراٹ نگر کے نیورو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اتوار کی رات تقریباً 11:50 بجے ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
پولیس کے مطابق ابتدا میں دونوں گروہوں کے درمیان معمولی تنازع ہوا، جو بعد میں پرتشدد جھڑپ میں تبدیل ہو گیا۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس کو فائرنگ کرنا پڑی۔ اس واقعے میں 10 دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں، جن کا علاج وراٹ نگر کے نیورو اسپتال، وراٹ نرسنگ ہوم، نوبیل میڈیکل کالج اور دیگر اسپتالوں میں جاری ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ ان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، ساون کے پیر کے موقع پر ہندو نوجوانوں کا ایک گروپ سپت کوشی دریا کی جانب بول بم یاترا کے لیے روانگی کی تیاری کر رہا تھا اور اس دوران ڈی جے بھی بجایا جا رہا تھا۔ اسی دوران دوسرے گروہ کے افراد نے رات کے وقت شور شرابے اور خلل کا اعتراض کیا، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان تلخ کلامی شروع ہو گئی۔مقامی افراد کے مطابق، اتوار کی رات تقریباً 10 بجے شروع ہونے والی معمولی نوک جھونک جلد ہی قابو سے باہر ہو گئی اور دونوں گروہوں کے درمیان مارپیٹ، توڑ پھوڑ اور آگ زنی کے واقعات پیش آئے۔ جب نیپال پولیس اور مسلح پولیس کی مشترکہ ٹیم موقع پر پہنچی تو متعدد گھروں، ایک میڈیکل اسٹور اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا جا چکا تھا اور آگ لگائی جا رہی تھی۔
صورتحال مزید بگڑنے پر انرووا میں ضلع سکیورٹی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس رات تقریباً 1 بجے منعقد ہوا، جس میں حالات پر فوری قابو پانے کے لیے طاقت کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا۔سنسری پولیس کے مطابق علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اضافی پولیس نفری اور انسدادِ ہنگامہ یونٹس کو حساس مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ واقعے کی مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan