
واشنگٹن، 27 جولائی (ہ س)۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کو شدید تنقید کے بعد ایران کے ساتھ جنگ میں ہلاک اور زخمی ہونے والے فوجیوں سے متعلق اپنے سرکاری ڈیٹا بیس کو اپ ڈیٹ کرنا پڑا۔ ہفتے کے روز جاری کردہ تازہ ترین اپ ڈیٹ میں مزید 140 زخمی فوجیوں اور گزشتہ ہفتے ایرانی حملوں میں ہلاک ہونے والے چار امریکی فوجیوں کے نام شامل کیے گئے۔ اپ ڈیٹ شدہ ڈیٹا بیس کے مطابق، 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 624 فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔
سی این این اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹس کے مطابق، تازہ تبدیلی کے تحت پینٹاگون نے ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم میں ہلاک اور زخمی فوجیوں کی تفصیلات کے لیے ’اوورسیز آپریشنز‘ کے نام سے ایک نئی ٹریکنگ کیٹیگری بھی شامل کی ہے۔
گزشتہ ہفتے پینٹاگون کو اس معاملے پر میڈیا اور امریکی قانون سازوں کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے تعلق رکھنے والے 12 ڈیموکریٹک سینیٹرز نے جمعرات کے روز وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو خط لکھ کر اس معاملے پر وضاحت طلب کی تھی۔
محکمہ دفاع کے قائم مقام پریس سیکریٹری جوئل والڈیز نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ویب سائٹ پر ڈیٹا میں عارضی رکاوٹ کی وجہ سے درست اعداد و شمار ظاہر نہیں ہو رہے تھے۔
اس معاملے کی نشاندہی سب سے پہلے نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کی تھی۔ بعد ازاں پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے بھی ایکس پر جاری بیان میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم میں عارضی تکنیکی خرابی اور ڈیٹا میں خلل کے باعث یہ مسئلہ پیش آیا۔ انہوں نے اس معاملے پر نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پر بھی تنقید کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan