غزہ، لبنان اور شام سے انخلا کےلئے امریکی دباؤ قبول نہیں، نیتن یاہو کا دوٹوک مؤقف
یروشلم، 27 جولائی(ہ س)۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ وہ غزہ، جنوبی لبنان اور شام کے ان علاقوں سے اسرائیلی افواج کے بڑے پیمانے پر انخلا کے لیے کسی بھی ممکنہ امریکی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی س
نیتن یاہو کی ٹرمپ سے ملاقات کی درخواست پر امریکی صدر کا طنز، کہا وہ جانتے ہیں ’بوس کون ہے


یروشلم، 27 جولائی(ہ س)۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ وہ غزہ، جنوبی لبنان اور شام کے ان علاقوں سے اسرائیلی افواج کے بڑے پیمانے پر انخلا کے لیے کسی بھی ممکنہ امریکی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی سے متعلق فیصلے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں نیتن یاہو نے ارکان کو بتایا کہ امریکا نے خطے میں فوجی موجودگی کم کرنے سے متعلق متعدد تجاویز پیش کی ہیں، تاہم وہ ان تجاویز کی مخالفت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انخلا کا مطالبہ کیا گیا تو ان کا جواب واضح طور پر’نہیں‘ ہوگا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ہفتے اسرائیلی وزیرِ اعظم کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے، جس میں ایران، غزہ، لبنان اور شام کی صورتِ حال سمیت خطے کی مجموعی سلامتی پر تبادلہ خیال ہوگا۔

نیتن یاہو نے امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام پر مسلسل نگرانی برقرار رکھنے پر زور دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس وقت ایسی کوئی نئی انٹیلی جنس معلومات موجود نہیں کہ ایران فوری طور پر جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ چکا ہے، تاہم تہران کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کی کارروائیوں سے ایران کے جوہری پروگرام کو کئی برس پیچھے دھکیل دیا گیا ہے، لیکن ایران دوبارہ اپنی صلاحیت بحال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، اس لیے مسلسل نگرانی ناگزیر ہے۔

نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے براہِ راست یا اپنے اتحادی گروپوں کے ذریعے اسرائیل پر حملہ کیا تو اس کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایسا کوئی بھی اقدام ایران کی سنگین غلطی ثابت ہوگا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے اور اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے مختلف ممالک میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا ہے تو خطے کے لیے خطرات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیاں کیں تو جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرم نیا نے کہا کہ ایران ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے جاری ہیں، تو دوسری جانب فوجی تناؤ بھی برقرار ہے، جس کے باعث عالمی برادری کی نظریں واشنگٹن میں ہونے والی متوقع ٹرمپ۔نیتن یاہو ملاقات پر مرکوز ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande