
نئی دہلی، 27 جولائی (ہ س)۔ دہلی کے جنتر منتر پر حالیہ احتجاج کے بارے میں چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے کہا کہ ہر شہری کو پرامن طریقے سے اور قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرنے کا آئینی حق ہے۔ صرف اس لیے کہ کہیں تحریک چل رہی ہے ، پولیس لاٹھی چارج یا ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال نہیں کر سکتی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر پولیس نے کہیں زیادتی کی ہے، تو اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ ملک بھر میں مظاہروں سے نمٹنے کے لیے یکساں رہنما اصول وضع کیے جانے چاہیے۔ بنچ کے ایک اور رکن جسٹس باغچی نے کہا،”خواہ زخمی طالب علم ہوں یا پولیس اہلکار،ہم دونوں کے لئے فکرمند ہیں۔حکومت سے دریافت کیا جا سکتا ہے کہ پرتشدد حالات سے نمٹنے کے لئے پولیس کو ہیلمٹ اور دیگر ضروری حفاظتی آلات کیوں نہیں دیئے گئے۔
واضح ہو کہ گزشتہ20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران دہلی میں کئی مقامات پر مظاہرین اور دہلی پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران کئی مقامات پر پولیس نے مظاہرین کے ساتھ زیادتی کی ۔ دہلی پولیس نے کئی مقامات پر طلبا پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس معاملے میں کناٹ پلیس تھانہ، پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانہ اور دیگر تھانوں میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد