
نئی دہلی، 27 جولائی (ہ س)۔
پیر کو، سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے طلباء کی تحریک میں شامل مظاہرین کے خلاف مبینہ کریک ڈاو¿ن پر تشویش کا اظہار کیا، جو سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا حصہ ہے۔ داس نے ٹویٹر پر لکھا، ہمیں آسام، مغربی بنگال اور بہار جیسی ریاستوں میں مختلف سرکاری ایجنسیوں کے ذریعہ طلباء اور دیگر مظاہرین کو نشانہ بنائے جانے، حراست میں لیے جانے یا گرفتار کیے جانے کی متعدد رپورٹوں پر گہری تشویش ہے۔
انہوں نے کہا، سی جے پی نے اپنا ملک گیر احتجاج اسی و عدے پر ختم کیا جب حکومت نے ہمیں یقین دلایا کہ کسی بھی مظاہرین کے خلاف ابھی یا مستقبل میں کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جائے گی۔ سب سے پہلے، ہم ہر مظاہرین کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہماری قانونی ٹیم، متعلقہ ریاستوں کے بہترین وکلاء کے ساتھ مل کر، حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی اور انہیں ہر ممکن قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ کام پہلے دن سے جاری ہے۔ دوم، ہم حکومت سے، خاص طور پر مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا اور مرکزی سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دیئے گئے اعتماد کا فوری طور پر احترام کریں۔ انہیں حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی کو یقینی بنانا چاہیے اور ہدایت کرنی چاہیے کہ ملک میں کہیں بھی کسی مظاہرین کے خلاف کوئی زبردستی یا انتقامی کارروائی نہ کی جائے۔ درج کی گئی ایف آئی آرز بھی واپس لی جائیں۔ سور بھ نے کہا کہ ملک گیر احتجاج کو روکنے کا ہمارا فیصلہ نیک نیتی کے ساتھ کیا گیا تھا اور صرف حکومت کے اس اعتماد پر مبنی تھا کہ وہ اپنے وعدے پر قائم رہے گی۔ اس بھروسے پر واپس جانا نہ صرف کاکروچ جنتا پارٹی کو دھوکہ دے گا بلکہ ان لاکھوں نوجوان ہندوستانیوں کے اعتماد کو بھی دھوکہ دے گا جنہوں نے احتجاج پر بات چیت کا راستہ اختیار کیا۔ نوجوانوں کے لیے ایسی دھوکہ دہی قطعی طور پر ناقابل قبول ہو گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ