
۔اپوزیشن کے ہنگامہ آرائی کے بعد دونوں ایوانوں کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی
نئی دہلی، 27 جولائی (ہ س)۔ اپوزیشن ارکان پارلیمان کے ہنگامے اور نعرے بازی کے درمیان، مرکزی حکومت نے پیر کو لوک سبھا میں ”عوامی امتحانات (غیر منصفانہ طریقوں کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026“ پیش کیا۔ مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بل ایوان میں پیش کیا۔ مسلسل مخالفت اور ہنگامہ آرائی کی وجہ سے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی۔ راجیہ سبھا کی کارروائی بھی اسی وقت تک ملتوی کر دی گئی۔
صبح 11 بجے جیسے ہی دونوں ایوانوں کی کارروائی شروع ہوئی، اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ نے مختلف مدعوں پر نعرے بازی شروع کردی۔ مسلسل ہنگامہ آرائی کی وجہ سے پہلے لوک سبھا اور راجیہ سبھا شروع میں دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ دوپہر 12 بجے جب کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو بھی تعطل برقرار رہا جس کے بعد دونوں ایوانوں کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
حکومت نے یہ بل 2024 کے قانون میں ترمیم کے لیے پیش کیا ہے۔ مجوزہ ترامیم میں پیپر لیک کرنے والوں کے لیے زیادہ سخت سزائیں اور بھاری جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس میں ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کے لیے بااختیار بنانے کی بھی تجویز ہے، جہاں اس طرح کے مقدمات کی روزانہ سماعت کی جائے گی۔ یہ قانون مرکزی حکومت اور اس کی ایجنسیوں کے ذریعہ منعقد ہونے والے عوامی امتحانات پر لاگو ہوگا۔ اس میں یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی )، اسٹاف سلیکشن کمیشن (ایس ایس سی )، ریلوے کی بھرتی، بینکنگ بھرتی کے امتحانات، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے ) اور دیگر مرکزی بھرتی اور داخلہ امتحانات شامل ہوں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم نیٹ پیپر لیک تنازعہ اور اس کے بعد ملک گیر طلبا کے احتجاج کی روشنی میں کی گئی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 23 جولائی کو قانون کو مزید سخت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے انفوسس کے شریک بانی نندن نلیکنی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس کی تشکیل کی گئی۔
اس دوران سابق مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دینے کے بعد پہلی بار پارلیمنٹ پہنچے۔ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے اراکین پارلیمنٹ نے ان کا شال اور متھیلا پگڑی پہنا کر استقبال کیا اور انہیں پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر لے گئے۔ اس دوران ارکان پارلیمنٹ نے ”دھرمیندر پردھان زندہ باد“ کے نعرے بھی لگائے۔نیٹ پیپر لیک تنازعہ کے درمیان دھرمیندر پردھان نے 25 جولائی کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ 3 مئی 2026 کو منعقد ہونے والے نیٹ -یوجی امتحان کو سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے بعد منسوخ کرنا پڑا اور اسے دوبارہ کرانا پڑا۔ واقعے کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اس معاملے کی جانچ کر رہا ہے۔ اب تک 13 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور امید ہے کہ ایجنسی جلد ہی چارج شیٹ داخل کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد