
نئی دہلی، 27 جولائی(ہ س)۔ بہار بند کے دوران ضلع سیوان میں پیش آئے ہنگامے اور مبینہ طور پر اے کے47- سے فائرنگ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے طلبہ کے ساتھ مبینہ بربریت کا الزام عائد کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے راجیہ سبھا میں یہ معاملہ اٹھایا۔ بعد ازاں انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوریت پر سنگین ترین حملوں میں سے ایک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے طلبہ کو مجرموں کی طرح مارا پیٹا جائے اور گھسیٹا جائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بہار میں طلبہ کے خلاف واقعی اے کے47 کا استعمال کیا گیا اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں طلبہ کو اس طرح کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ذمہ دار افراد کو جوابدہی سے بچنے نہیں دیا جا سکتا۔
لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کے خلاف پورا نظام ہی جان لیوا بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہار میں احتجاج کرنے والے طلبہ پر اے کے47 سے گولیاں چلائی گئیں، سینکڑوں طلبہ کو گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے سوال کیا کہ وزیر اعظم کا وہ وعدہ کہاں گیا جس میں کہا گیا تھا کہ طلبہ کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں ہوگی اور انہیں رہا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں طلبہ پر پیلٹ گن اور بہار میں اے کے47 کے استعمال کے الزامات ایک ہی طرزِ عمل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق وزیر اعظم کو طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے خلاف اے کے47 اور پیلٹ گن کے استعمال کے الزامات انتہائی تشویشناک ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا طلبہ دہشت گرد ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ بہار اور مغربی بنگال میں ایک بار پھر طلبہ کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، جبکہ کئی طالبات کے والدین کو بھی دھمکایا جا رہا ہے اور ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو احتجاج میں کیوں بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ کیا بھارت میں لڑکیوں کو احتجاج کرنے کا حق حاصل نہیں؟
سماج وادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے کہا کہ بی جے پی کے دورِ حکومت میں نوجوانوں پر مبینہ مظالم رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ ان کے مطابق اگر بہار میں اے کے47 سے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے تو یہ انتہائی قابلِ مذمت ہے اور جمہوری نظام میں عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ادھر راشٹریہ جنتا دل(آر جے ڈی) کے رہنما تیجسوی یادو نے الزام عائد کیا کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نے احتجاج کرنے والے طلبہ پر اے کے47 سے فائرنگ کروائی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ سے معاہدے کے باوجود ہزاروں طلبہ کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے اور ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ تیجسوی یادو نے خبردار کیا کہ اگر گرفتار طلبہ کو رہا نہ کیا گیا تو قومی جمہوری اتحاد(این ڈی اے) کی حکومت کو اس کے سیاسی نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan