چین کے دباؤ کا نیپال پر اثر،کاٹھمنڈو میں ہونے والی تبت کانفرنس میںنہیں آئیں گے دلائی لامہ کے نمائندے
کاٹھمنڈو، 27 جولائی (ہ س)۔ نیپال حکومت پر چین کے دباؤ کا واضح اثر سامنے آیا ہے۔ چینی دباؤ کے بعد کاٹھمنڈو میں منعقد ہونے والی تبت سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں دلائی لامہ کی جلا وطن حکومت(سنٹرل تبتی ایڈمنسٹریشن) اپنے سرکاری نمائندے نہیں بھیجے
چین کے دباؤ کا نیپال پر اثر،کاٹھمنڈو میں ہونے والی تبت کانفرنس میںنہیں آئیں گے دلائی لامہ کے نمائندے


کاٹھمنڈو، 27 جولائی (ہ س)۔

نیپال حکومت پر چین کے دباؤ کا واضح اثر سامنے آیا ہے۔ چینی دباؤ کے بعد کاٹھمنڈو میں منعقد ہونے والی تبت سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں دلائی لامہ کی جلا وطن حکومت(سنٹرل تبتی ایڈمنسٹریشن) اپنے سرکاری نمائندے نہیں بھیجے گی۔ بھارت کی ریاست ہماچل پردیش کے شہر دھرم شالا میں قائم سنٹرل تبتی ایڈمنسٹریشن (سی ٹی اے) نے 23 سے 29 اگست تک کاٹھمنڈو میں ہونے والی انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار تبتی اسٹڈیز (آئی اے ٹی ایس) کی 17ویں کانفرنس میں باضابطہ شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سی ٹی اے نے ابتدا میں اپنے تھنک ٹینک تبت پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ٹی پی آئی)سے پانچ نمائندوں کو کانفرنس میں بھیجنے کی تیاری کی تھی۔ ان میں ٹی پی آئی کے ڈائریکٹر داوا چھرنگ کی قیادت میں محققین ڈاکٹر چھیوانگ دورجی، ڈاکٹر چھرنگ ڈولما، ڈاکٹر کرما تنزنگ دالیا اور ڈاکٹر رگمون چھرنگ سامدک شامل تھے۔ اس وقت پینپا چھرنگ سنٹرل تبتی ایڈمنسٹریشن کے سربراہ ہیں۔

ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار کے مطابق 20 جولائی کوکاٹھمنڈو میں چین کے سفیر چانگ ماؤمنگ نے نیپال کے سیکریٹری خارجہ امرت بہادر رائے سے ملاقات کے دوران سی ٹی اے کے نمائندوں کی ممکنہ سرکاری شرکت پر تشویش ظاہر کی تھی۔ اہلکار نے بتایا کہ چینی سفیر نے کانفرنس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ تو نہیں کیا، تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس دوران چین مخالف بیانات سامنے آ سکتے ہیں۔ غالباً نیپال حکومت پر مزید دباؤ سے بچنے اور کانفرنس کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سی ٹی اے نے اپنے سرکاری نمائندے نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

سی ٹی اے کے 21 جولائی کے فیصلے کے مطابق اگرچہ ادارہ باضابطہ طور پر کانفرنس میں شریک نہیں ہوگا، تاہم جن نمائندوں نے پہلے ہی رجسٹریشن کروا رکھی ہے وہ اپنی ذاتی حیثیت میں کانفرنس میں شرکت کر سکتے ہیں۔ ایک دوسرے سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ نیپال کی خارجہ پالیسی کا احترام کرتے ہوئے اور کسی غیر ضروری سفارتی پیچیدگی سے بچنے کے لیے دھرم شالا میں ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا، تاہم تبتی محققین اور ماہرین کو انفرادی حیثیت میں شرکت کی اجازت ہوگی۔

نیپال میں پہلی مرتبہ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار تبتی اسٹڈیز کی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ اس سے قبل ایشیا میں یہ کانفرنس جاپان (1989) اور منگولیا (2013) میں منعقد ہو چکی ہے۔ آئی اے ٹی ایس کی ویب سائٹ کے مطابق کاٹھمنڈو یونیورسٹی کا ہمالین سینٹر فار ایشین اسٹڈیز اور سینٹر فار بدھسٹ اسٹڈیز – رانگ جونگ ییسے انسٹی ٹیوٹ اس کانفرنس کے مقامی شریک منتظمین ہیں۔

کانفرنس کے منتظمین میں ہمالین سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ساگر شرما اور تھامس ڈاکٹر شامل ہیں۔ ڈاکٹر ساگر شرما کے مطابق کانفرنس کی تمام تیاریاں نیپال حکومت اور سکیورٹی اداروں کے تعاون سے مکمل کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاٹھمنڈو یونیورسٹی مقامی میزبان کے طور پر تمام سرکاری اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ان کے بقول عالمی سطح کی اس اہم علمی کانفرنس کا ٹھمنڈو میں انعقاد خوش آئند ہے اور چونکہ یہ خالصتاً ایک علمی پروگرام ہے، اس لیے کسی مسئلے کی توقع نہیں ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ جس کانفرنس پر چین کو اعتراض ہے، اس میں خود چین سے بھی تقریباً 100 مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ منتظمین کے مطابق 39 ممالک سے 700 سے زائد نمائندوں نے رجسٹریشن کرائی ہے، جن میں سب سے زیادہ تقریباً 150 مندوبین امریکہ سے آ رہے ہیں، جبکہ شرکت کے لحاظ سے چین دوسرے نمبر پر ہے۔ کانفرنس میں چین کے لہاسا، سیچوان، چنگھائی اور بیجنگ سمیت امریکہ کی ہارورڈ اور کولمبیا یونیورسٹی اور برطانیہ کی آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی کے محققین بھی شریک ہوں گے۔اس کے علاوہ چین کے چائنا تبتولوجی ریسرچ سینٹر، بھارت، تائیوان اور جاپان کے بودھ خانقاہوں کے نمائندے بھی کاٹھمنڈو پہنچ رہے ہیں۔ کانفرنس کی افتتاحی تقریب 23 اگست کو کاٹھمنڈو یونیورسٹی کے دھولی کھیل کیمپس میں منعقد ہوگی، جبکہ تقریباً 70 پینل مباحثے شہر کے سولٹی ہوٹل میں ہوں گے۔

انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار تبتی اسٹڈیز (آئی اے ٹی ایس) دنیا بھر کے تبتی مطالعات سے وابستہ محققین، جامعات کے اساتذہ، مورخین، ماہرینِ لسانیات، مذہبی اسکالرز اور سماجیات کے ماہرین کی ایک بین الاقوامی تنظیم ہے، جس کا بنیادی مقصد تبت سے متعلق علمی تحقیق کو فروغ دینا ہے۔ دوسری جانب چین، اپنے خودمختار علاقے تبت سے متعلق کانفرنسوں میں جلا وطن تبتی انتظامیہ یا دلائی لامہ کی سیاسی سرگرمیوں کو اپنی خودمختاری کے خلاف اقدام تصور کرتا ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande