امریکہ ایران کے جوہری ذخیرے پر فوجی کارروائی پر غور کرسکتا ہے،رپورٹ میں دعویٰ
واشنگٹن،26جولائی(ہ س)۔ایک امریکی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئیں تو واشنگٹن ایران کی انتہائی محفوظ جوہری تنصیبات میں موجود افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو اپنے قبضے میں لینے کے لیے
امریکہ ایران


واشنگٹن،26جولائی(ہ س)۔ایک امریکی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئیں تو واشنگٹن ایران کی انتہائی محفوظ جوہری تنصیبات میں موجود افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو اپنے قبضے میں لینے کے لیے خصوصی فوجی کارروائی کا آپشن زیرِ غور لا سکتا ہے۔امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس ممکنہ منصوبے میں امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز کو مرکزی کردار دیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں عسکری ماہرین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگر اس نوعیت کا آپریشن کیا گیا تو اسے جدید تاریخ کے مشکل ترین فوجی مشنز میں شمار کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس کے لیے ایرانی سرزمین کے اندر وسیع پیمانے پر سکیورٹی، لاجسٹک اور انٹیلی جنس تعاون درکار ہوگا۔سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس کے نائب ڈائریکٹر جوزف راجرز کے مطابق اگر مذاکرات ناکام رہتے ہیں تو ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو محفوظ بنانے کے لیے فوجی آپشن نسبتاً مؤثر راستہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی پیش رفت کی رفتار انتہائی سست ہے، جس کے باعث متبادل آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں عسکری منصوبہ بندی سے واقف ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مجوزہ کارروائی کے دوران ہزاروں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ جوہری تنصیبات کے اطراف سکیورٹی قائم کی جا سکے، بارودی رکاوٹیں ہٹائی جائیں اور خصوصی دستوں کے لیے محفوظ راستے فراہم کیے جا سکیں۔ اس کے بعد اسپیشل فورسز کی محدود ٹیمیں تنصیبات میں داخل ہو کر افزودہ یورینیم کو قبضے میں لینے اور اسے ایران سے باہر منتقل کرنے کی ذمہ داری سنبھالیں گی۔ذرائع کے مطابق اس کارروائی کو غیر معمولی حد تک خطرناک تصور کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ بعض ماہرین کے مطابق حالیہ عرصے میں ایران کی فوجی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا ہے، تاہم زیرِ زمین محفوظ تنصیبات اور جنگی ماحول اس مشن کو لاجسٹک اعتبار سے انتہائی پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممکنہ آپریشن میں امریکی نیوی سیل ٹیم 6، آرمی رینجرز کی دوسری بٹالین اور خطرناک کیمیائی و تابکار مواد سے نمٹنے میں مہارت رکھنے والی خصوصی یونٹس بھی شامل ہو سکتی ہیں، جو افزودہ یورینیم کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کی ذمہ دار ہوں گی۔رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی(آئی اے ای اے) نے 2025 میں اندازہ لگایا تھا کہ ایران کے پاس 20 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ افزودہ یورینیم موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بھی آپریشن کی کامیابی کے لیے جوہری مقامات کے گرد مضبوط حفاظتی حصار قائم کرنا اور زمینی و فضائی انخلا کے محفوظ راستے برقرار رکھنا ناگزیر ہوگا، جبکہ امریکی فورسز کو ایرانی جوابی کارروائیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں قومی سلامتی کونسل کے سابق عہدیدار رچرڈ گولڈ برگ نے کہا کہ اس منصوبے کا سب سے بڑا چیلنج کارروائی مکمل ہونے تک امریکی فورسز کی پوزیشن کو محفوظ رکھنا ہوگا۔ ان کے مطابق انٹیلی جنس اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے اصفہان کی جوہری تنصیب کے گرد اضافی دفاعی انتظامات کیے ہیں، جن میں مزید فوجیوں کی تعیناتی اور دھماکہ خیز مواد کی تنصیب بھی شامل ہے۔رچرڈ گولڈ برگ کے مطابق اگر اس مقام کو فضائی حملوں سے تباہ کرنا ممکن نہ ہوا تو خصوصی زمینی کارروائی کے ذریعے اسے ناکارہ بنانے کا آپشن اختیار کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایسی کسی بھی کارروائی کی کامیابی کا انحصار تنصیب کے ڈیزائن، دفاعی نظام اور درست انٹیلی جنس معلومات پر ہوگا۔رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع اور وائٹ ہاؤس نے اب تک ایسی کسی ممکنہ فوجی منصوبہ بندی کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس کی تردید کی ہے۔ رپورٹ میں شامل تمام معلومات باخبر ذرائع اور دفاعی ماہرین کی آرائ پر مبنی ہیں، جنہیں نیویارک پوسٹ نے اپنی تحقیق میں نقل کیا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande