رپورٹ کا دعویٰ: ایران برطانیہ تک افراد کی منتقلی کےلئے خفیہ سمگلنگ نیٹ ورک استعمال کر رہا ہے
لندن،26جولائی (ہ س)۔برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران مشرقِ وسطیٰ سے یورپ تک پھیلے سمگلنگ کے ایک منظم نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے بعض افراد کو خفیہ طور پر برطانیہ پہنچا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس مبینہ
رپورٹ کا دعویٰ: ایران برطانیہ تک افراد کی منتقلی کےلئے خفیہ سمگلنگ نیٹ ورک استعمال کر رہا ہے


لندن،26جولائی (ہ س)۔برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران مشرقِ وسطیٰ سے یورپ تک پھیلے سمگلنگ کے ایک منظم نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے بعض افراد کو خفیہ طور پر برطانیہ پہنچا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس مبینہ کارروائی کی نگرانی ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کی یونٹ 700 کر رہی ہے، جس پر برطانیہ نے 2024 میں اپنے اور دیگر ممالک کے استحکام کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ نیٹ ورک ابتدا میں شام اور لبنان میں ایران کے اتحادی گروپوں تک اسلحہ، مالی وسائل اور دیگر سامان پہنچانے کے لیے قائم کیا گیا تھا، تاہم وقت کے ساتھ اس کا دائرہ کار بڑھا کر منشیات اور غیر قانونی تارکینِ وطن کی سمگلنگ تک وسیع کر دیا گیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہی راستوں کے ذریعے ایسے افراد کو بھی برطانیہ منتقل کیا جاتا ہے جنہیں ضرورت پڑنے پر تہران اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یونٹ 700 مبینہ طور پر سمگلنگ کے لاجسٹک انتظامات کی نگرانی کرتی ہے، جبکہ یونٹ 190 سامان اور افراد کی عملی منتقلی کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہے۔ شام میں موجود بعض خفیہ یونٹس ان کارروائیوں میں معاونت کرتے ہیں، جن میں سے ایک یونٹ مبینہ طور پر جدید میزائلوں سے متعلق سرگرمیوں میں بھی مہارت رکھتا ہے۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ کثیرالجہتی نیٹ ورک پاسدارانِ انقلاب کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ کسی ایک سپلائی لائن پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف راستوں اور ذرائع سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت انگلش چینل عبور کرنے والی چھوٹی کشتیوں اور مشرقی یورپ سے آنے والی پروازوں کو بھی مبینہ طور پر اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ برطانیہ میں موجود ایسے افراد اس وقت تک خاموشی سے رہتے ہیں جب تک انہیں کسی مخصوص مشن کے لیے متحرک نہ کیا جائے۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ کی جانب سے امریکی بی-ون بمبار طیاروں کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے آر اے ایف فیئرفورڈ ایئر بیس استعمال کرنے کی اجازت دینے کے بعد تہران اور لندن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔تحقیق میں ایک ایرانی اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ کی حمایت کے باعث برطانیہ بھی ایران کے ممکنہ اہداف میں شامل ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اہلکار نے کہا کہ ایران پہلے ہی برطانیہ کو خبردار کر چکا ہے کہ وہ جنگی تنازع سے دور رہے، جبکہ برطانوی فوجی اڈوں کو ایرانی میزائلوں کی پہنچ میں قرار دیا گیا۔رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ تہران کے پاس لندن کے اندر ایسے افراد موجود ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر مختلف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک اور ایرانی اہلکار کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بعض افراد برطانوی سرکاری عمارتوں تک رسائی رکھتے ہیں اور مستقبل میں حساس اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ تحقیق مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان کام کرنے والے متعدد انسانی سمگلروں کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔ ان میں سے بعض نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت یا اس سے وابستہ عناصر ان نیٹ ورکس کے کچھ حصوں کی سرپرستی کرتے ہیں یا ان سے مالی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ ایک سمگلر کے مطابق بعض تارکینِ وطن کو کم خرچ میں یورپ یا برطانیہ پہنچایا جاتا ہے، لیکن اس کے بدلے ان سے مستقبل میں مخصوص خدمات انجام دینے کی غیر اعلانیہ شرط رکھی جاتی ہے۔تاہم برطانیہ کے متعدد سکیورٹی ماہرین نے ان دعوؤں کے بعض پہلوؤں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سابق سرکاری سکیورٹی مشیر ڈاکٹر لینیٹ نوسباخر کے مطابق ایران کے پاس برطانیہ میں طویل المدتی اور پیچیدہ خفیہ نیٹ ورک چلانے کے لیے مطلوبہ حکمتِ عملی اور صبر کا فقدان ہے۔ اسی طرح برونیل یونیورسٹی کے ماہر ڈاکٹر کرسچن گسٹافسن کا کہنا ہے کہ ایران کا بنیادی مقصد ممکنہ طور پر برطانیہ کے اندر خوف اور سیاسی دباؤ پیدا کرنا ہے تاکہ امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے لندن کی حمایت کو کمزور کیا جا سکے۔رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب پہلے ہی یہ اعلان کر چکی ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے والا کوئی بھی فوجی اڈہ جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ تحقیق کے مطابق سمگلنگ کے یہ نیٹ ورک تہران کے لیے نسبتاً کم لاگت اور زیادہ لچکدار ذریعہ ہیں، جن کے ذریعے افراد، وسائل یا موجودہ نیٹ ورکس کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ رپورٹ میں شامل تمام الزامات اور دعوؤں پر ایران کی جانب سے اس خبر کے اجرا تک کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande