
بیجنگ،26جولائی(ہ س)۔چین کے جنوبی ساحلی علاقوں میں طوفان نول کے خطرے کے پیش نظر حکام نے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق اب تک 20 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کے خدشے کے باعث متعدد ریلوے سروسز بھی معطل کر دی گئی ہیں۔چین کے قومی موسمیاتی مرکز کے مطابق طوفان کے ہفتے کی شام سے اتوار کی صبح کے دوران ہانگ کانگ سے گوانگ ڈونگ صوبے تک پھیلے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ موسمیاتی حکام نے طوفان کے پیش نظر اورنج الرٹ برقرار رکھا ہے، جو ملک کے چار درجاتی انتباہی نظام میں دوسری بلند ترین وارننگ ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ گوانگ ڈونگ اور پڑوسی صوبے فوجیان کے مختلف علاقوں میں تیز آندھی، شدید بارش اور خراب موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے باعث شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت دی گئی ہے۔سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق گوانگ ڈونگ میں 20 ہزار سے زیادہ افراد کو احتیاطی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ سمندر میں موجود تمام ماہی گیری کی کشتیاں بھی بندرگاہوں پر واپس بلا لی گئی ہیں تاکہ ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔شدید موسم کے باعث گوانگ ڈونگ میں ہفتے کے روز متعدد ٹرین سروسز معطل رہیں، جبکہ حکام نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کو ریلوے آپریشن مکمل طور پر بند رکھا جائے گا۔مقامی میڈیا کے مطابق گوانگ ڈونگ کے شہر چاؤژو میں تمام تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر بند رکھنے اور تدریسی سرگرمیاں معطل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔رواں ماہ چین کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں خراب موسم پہلے ہی بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن چکا ہے۔ صوبہ گوانگشی میں طوفان میساک سے آنے والے شدید سیلاب کے نتیجے میں 39 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ گرج چمک، آندھی اور تیز ہواؤں نے صوبہ ہوبی میں بھی تباہی مچائی، جہاں 11 افراد ہلاک اور 331 زخمی ہوئے۔ماہرینِ موسمیات اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں شدید موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق فوسل فیول کے بڑھتے ہوئے استعمال سے زمین کا درجہ حرارت بلند ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایسے طاقتور طوفان، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات زیادہ تواتر سے رونما ہو رہی ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan