
واشنگٹن،26جولائی(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے واشنگٹن کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو امریکہ وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں فضائی حملوں میں وقفہ آنے کو امریکی پالیسی میں نرمی نہ سمجھا جائے۔فرانسیسی ٹی وی چینل ایل سی آئی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ حملوں کا عارضی طور پر رک جانا کسی صورت پسپائی کی علامت نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے تمام عسکری آپشن بدستور موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر فیصلہ کن کارروائی کی جا سکتی ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ دو ہفتوں میں پہلی مرتبہ ہفتے کی شب ایران پر کوئی امریکی فضائی حملہ نہیں کیا گیا۔ مسلسل 13 راتوں تک جاری رہنے والی بمباری کے اچانک رکنے کی وجہ سے متعلق امریکی حکام نے تاحال کوئی باضابطہ وضاحت پیش نہیں کی۔امریکی کارروائیاں اس وقت شروع ہوئی تھیں جب عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ایران پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنایا اور سمندری نقل و حمل میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ تاہم ہفتے کے روز ایران کی جانب سے خطے میں کسی نئے حملے کی بھی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ادھر امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایکسیوس نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ صدر ٹرمپ نے جمعہ کو امریکی فوج کو ہدایت دی تھی کہ فی الحال ایران پر مزید نئے حملے نہ کیے جائیں۔ اگرچہ اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔گزشتہ چند دنوں کے دوران صدر ٹرمپ متعدد بار خبردار کر چکے ہیں کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو امریکہ ایران کے بجلی گھروں، اہم پلوں اور جزیرہ خارک سمیت ایسے اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جو ایرانی تیل کی برآمدات میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔انہوں نے اس امکان کا بھی اظہار کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک زیرِ زمین تنصیبات، جن میں مبینہ طور پر کلہاڑی کا پہاڑ کہلانے والا مقام بھی شامل ہے، مستقبل کی ممکنہ کارروائیوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔تاہم صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز یہ بھی کہا کہ انہوں نے ایران کے خلاف کسی نئی بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا، لیکن اگر حالات نے تقاضا کیا تو امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan