
ممبئی میں ادھو اور راج ٹھاکرے کی مشترکہ فتح ریلی، طلبہ تحریک کو قرار دیا عوامی کامیابیشیواجی پارک سے سدھی ونائک مندر تک ہزاروں افراد کی شرکت، رہنماؤں کی نوجوانوں کو جمہوری جدوجہد جاری رکھنے اپیل ممبئی ، 26 جولائی (ہ س) ۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد ممبئی میں طلبہ تحریک کے حق میں ایک بڑی مشترکہ فتح ریلی نکالی گئی، جس کی قیادت شیو سینا یو بی ٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے کی۔ شیواجی پارک سے شروع ہونے والی اس ریلی میں ہزاروں طلبہ، نوجوان، پارٹی کارکنوں اور شہریوں نے شرکت کی، جبکہ اختتام سدھی ونائک مندر کے قریب قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔ریلی کے پیش نظر شہر میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ شیواجی پارک، دادر، پربھا دیوی اور سدھی ونائک مندر کے اطراف اضافی پولیس نفری تعینات رہی، جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستوں اور خصوصی ٹریفک پلان پر عمل کیا گیا۔ یہ ریلی ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب مبینہ نیٹ پرچہ لیک معاملے پر مسلسل جاری طلبہ احتجاج کے بعد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے ہفتے کو اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ بعد ازاں مرکزی حکومت نے وزارت تعلیم کا اضافی چارج پرہلاد جوشی کو سونپ دیا، جو پہلے ہی امورِ صارفین، خوراک و عوامی تقسیم اور نئی و قابل تجدید توانائی کی وزارتوں کی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔ ادھر دہلی کے جنتر منتر پر کئی ہفتوں سے جاری طلبہ احتجاج بھی استعفے کے بعد اختتام پذیر ہوگیا۔شیواجی پارک میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے راج ٹھاکرے نے مبینہ نیٹ پرچہ لیک کے خلاف تحریک کے دوران خودکشی کرنے والے 21 طلبہ کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے نام پڑھ کر انہیں یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی اس تحریک نے ثابت کیا ہے کہ جمہوری انداز میں متحد ہو کر عوام اپنی آواز مؤثر طریقے سے حکومت تک پہنچا سکتے ہیں۔ راج ٹھاکرے نے احتجاج کے دوران مہاراشٹر پولیس کے رویے کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ریاستی پولیس نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جو ان کے بقول دہلی میں اختیار کیے گئے طرز عمل سے مختلف تھا۔ادھو ٹھاکرے نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ صرف امتحانی نظام کا معاملہ نہیں بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی حقوق سے جڑا ہوا مسئلہ تھا۔ ان کے مطابق اس تحریک میں مختلف ذاتوں، مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایک مقصد کے تحت متحد ہوئے، جس نے عوامی یکجہتی کی نئی مثال قائم کی۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ ایک سیاسی فیصلہ ہو سکتا ہے، لیکن احتجاج کے دوران جان گنوانے والے طلبہ اور ان کے اہل خانہ کے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں۔ ادھو ٹھاکرے نے الزام لگایا کہ طلبہ مسلسل امتحانی نظام میں شفافیت کا مطالبہ کرتے رہے، مگر حکومت نے بروقت مؤثر اقدامات کرنے کے بجائے دیگر سیاسی معاملات پر زیادہ توجہ دی۔شیو سینا یو بی ٹی کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے نے بھی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں نے اپنی منظم جدوجہد سے حکومت کو عوامی مسائل پر جواب دینے پر مجبور کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مختلف حکومتی پالیسیوں، نتن گڈکری کی ایتھنول پالیسی اور وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے بعض بیانات پر بھی عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ریلی میں شریک طلبہ اور نوجوانوں نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے امتحانی نظام میں شفافیت، انصاف اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کے مطابق ان کی تحریک کو قومی سطح پر توجہ ملنے اور مطالبات کے حق میں پیش رفت کے بعد وہ اس عوامی اجتماع میں شریک ہوئے تاکہ اپنی جدوجہد کو جمہوری انداز میں کامیابی کی علامت کے طور پر منایا جا سکے۔اجتماع کے دوران شرکاء نے قومی پرچم تھامے طلبہ کے حقوق، شفاف امتحانی نظام اور عوامی مسائل پر حکومت کی جوابدہی کے حق میں نعرے لگائے۔ اختتام پر ادھو اور راج ٹھاکرے نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ آئندہ بھی اپنے مطالبات کے لیے صرف آئینی اور پرامن راستہ اختیار کریں۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے