
نئی دہلی، 26 جولائی(ہ س)۔ بھارت کی وزارتِ خارجہ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے پیش نظر بحیرہ اسود(بلیک سی)اور اس سے ملحقہ سمندری علاقوں کی خراب سکیورٹی صورتحال کے باعث بھارتی شہریوں کے لیے نئی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ ان علاقوں میں تجارتی جہازوں پر ملازمت کے خواہش مند بھارتی شہری کسی بھی ملازمت کو قبول کرنے سے قبل موجودہ سکیورٹی خطرات کا مکمل جائزہ لیں۔وزارتِ خارجہ کے مطابق جو بھارتی شہری جنگ سے متاثرہ سمندری راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کام کرنا چاہتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے آجر، بھرتی کرنے والی ایجنسی اور جہاز چلانے والی کمپنی سے جہاز کے مجوزہ راستے، ممکنہ بندرگاہوں، حفاظتی انتظامات، انشورنس کوریج اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں۔وزارت نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ ملازمت کی تمام شرائط بین الاقوامی بحری قوانین اور معیارات کے مطابق ہونی چاہئیں۔ اس کے علاوہ ہنگامی حالات میں طبی سہولت، انخلا، وطن واپسی اور مناسب معاوضے کے انتظامات بھی یقینی بنائے جائیں۔ بھارتی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سفری منصوبہ بندی سے اپنے اہل خانہ کو باخبر رکھیں اور ان سے مسلسل رابطے میں رہیں۔ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بھارتی شہری ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ، حکومتِ ہند اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر مسلسل نظر رکھیں اور جہاز چلانے والی کمپنیوں اور مجاز بحری حکام کی سکیورٹی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ خاص طور پر 23 جولائی کو ڈی جی شپنگ اور وزارتِ بندرگاہ، جہاز رانی و آبی گزرگاہیں کی جانب سے جاری تازہ حفاظتی مشورے کا مطالعہ کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر بھارتی شہری متعلقہ ملک میں قائم بھارتی سفارت خانے یا قونصل خانے سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ روس میں بھارتی سفارت خانے کا ہنگامی نمبر +7 9652773414 جبکہ یوکرین میں بھارتی سفارت خانے کا ہنگامی نمبر +38 0933559958 جاری کیا گیا ہے۔وزارت نے واضح کیا کہ یہ ایڈوائزری خاص طور پر ان بھارتی شہریوں کے لیے جاری کی گئی ہے جو بحیرہ اسود کے علاقے میں چلنے والے تجارتی جہازوں پر ملازمت کرتے ہیں۔ بلیک سی اور اس سے ملحقہ سمندری علاقوں میں جاری جنگ کے باعث سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے اور وہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو میزائل، ڈرون اور دیگر حملوں کا خطرہ لاحق ہے۔وزارت کے مطابق رواں سال اپریل سے اب تک متعدد تجارتی جہاز ان حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں پانچ بھارتی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan