
نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س)۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک کے بعد مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ باضابطہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔ ہفتہ کو صدر کے سکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے وزیر اعظم کے مشورے پر دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ قبول کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی وزارتِ تعلیم کا اضافی چارج اب صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی کو سونپ دیا گیا ہے۔
پرہلاد جوشی نے 30 مئی 2019 کو پہلی بار مرکزی کابینہ کے وزیر کے طور پر حلف لیا تھا۔ اس وقت انہیں پارلیمانی امور، کوئلہ اور کان کنی کی وزارتوں کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ جون 2024 تک وہ ان وزارتوں کی ذمہ داریاں سنبھالتے رہے۔ 2024 کے عام انتخابات کے بعد انہیں صارفین کے امور، خوراک و عوامی تقسیم اور نئی و قابلِ تجدید توانائی کی وزارتوں کی ذمہ داری سونپی گئی۔ کرناٹک کے دھارواڑ لوک سبھا حلقے سے پرہلاد جوشی مسلسل پانچ مرتبہ رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہو چکے ہیں۔ تاہم 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں کامیابی کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ کم مارجن سے حاصل ہونے والی فتح پر وہ مکمل طور پر مطمئن نہیں تھے۔
قابلِ ذکر ہے کہ انسٹاگرام پر طنزیہ انداز میں شروع ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی مہم چند ہی مہینوں میں ایک بڑی طلبہ تحریک میں تبدیل ہو گئی۔ نیٹ پرچہ لیک معاملے کو لے کر ملک بھر میں طلبہ کے احتجاج کے درمیان ہفتہ کے روز دھرمیندر پردھان نے مرکزی وزیرِ تعلیم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد