
عالمی کپ میں نمایاں کارکردگی دکھانے کو تیار ہندوستان کے نوجوان ہاکی کھلاڑی، بڑے پلیٹ فارم پر صلاحیت کا مظاہرہ کریں گے
نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س)۔ ایف آئی ایچ مینز ہاکی عالمی کپ 2026 کے لیے ہندوستانی ٹیم پوری طرح تیار ہے۔ بیلجیئم اور نیدرلینڈز میں ہونے والے اس باوقار ٹورنامنٹ کے لیے اعلان کردہ 20 رکنی ہندوستانی ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ کئی نوجوان چہروں کو بھی موقع ملا ہے۔ گول کیپر موہت ایچ ایس، ڈفنڈر یشدیپ سیواچ اور مڈ فیلڈر راجندر سنگھ نیز آدتیہ ارجن لالاگے اپنی شاندار کارکردگی کے دم پر پہلی بار عالمی کپ میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے کے لیے پُر جوش ہیں۔
23 سالہ مڈ فیلڈر آدتیہ ارجن لالاگے نے کہا کہ عالمی کپ میں کھیلنا ان کا بچپن کا خواب تھا۔ انہوں نے ہاکی انڈیا کے حوالے سے کہا، ’’ہندوستانی عالمی کپ ٹیم کا حصہ بننا میرے لیے بے حد خاص لمحہ ہے۔ میری پوری توجہ اس موقع کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے پر ہے۔ میں ہر پریکٹس سیشن اور ہر مقابلے میں اپنا سو فیصد دینا چاہتا ہوں اور ٹیم میں ہر ممکن تعاون دینا چاہتا ہوں۔‘‘
لالاگے نے کہا کہ ٹیم کے سینئر کھلاڑی اور کوچ مسلسل ان کی رہنمائی کرتے ہیں، جس سے ان کا اعتماد بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری ٹیم ایک ہی سوچ کے ساتھ محنت کر رہی ہے اور ملک کے لیے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے۔ 23 سالہ مڈ فیلڈر راجندر سنگھ نے ٹیم کے اتحاد کو سب سے بڑی طاقت قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری ٹیم کی سب سے بڑی خصوصیت باہمی ہم آہنگی ہے۔ میدان کے اندر اور باہر تمام کھلاڑیوں کے درمیان شاندار تال میل ہے۔ اگر کوئی کھلاڑی غلطی کرتا ہے تو دوسرا کھلاڑی فوراً اس کی مدد کے لیے تیار رہتا ہے۔ یہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔‘‘
25 سالہ ڈفنڈر یشدیپ سیواچ نے کہا کہ عالمی کپ کی تیاریاں بے حد سخت رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا، ’’فٹنس، طاقت، تکنیک اور حکمت عملی کے ہر پہلو پر ہم نے سخت محنت کی ہے۔ ہر ٹریننگ کیمپ نے ہمیں اپنی کارکردگی کا معیار مزید بلند کرنے کے لیے ترغیب دی ہے۔‘‘
کپتان ہرمن پریت سنگھ، جرمن پریت سنگھ اور امت روہیداس جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کے حوالے سے سیواچ نے کہا کہ سینئر کھلاڑیوں کی رہنمائی ان کے لیے بے حد اہم رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجربہ کار کھلاڑیوں سے کھیل کی باریکیاں سیکھنے کا موقع ملا ہے، جس سے ان کا اعتماد بڑھا ہے۔
گول کیپر موہت ایچ ایس نے کہا کہ پچھلے عالمی کپ کے دوران وہ بنگلورو میں جونیئر قومی کیمپ میں تھے اور تبھی انہوں نے ایک دن عالمی کپ میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے کا خواب دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے امید تھی کہ ایک دن یہ موقع ضرور ملے گا، لیکن اتنی جلدی ملے گا، اس کا تصور نہیں کیا تھا۔ عالمی کپ ٹیم کا حصہ بننا میرے لیے بے حد جذباتی اور فخر کا لمحہ ہے۔‘‘
موہت نے کہا کہ جونیئر عالمی کپ کے بعد سے انہوں نے تکنیکی اور جسمانی دونوں سطحوں پر کافی بہتری کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کوچوں اور سینئر کھلاڑیوں سے مسلسل سیکھنے کا فائدہ ملا ہے اور ٹیم میں تجربے نیز نوجوان جوش کا بہترین توازن ہے۔ ہندوستان اپنی مہم کا آغاز 15 اگست کو ویلز کے خلاف کرے گا۔ اس کے بعد 17 اگست کو انگلینڈ اور 19 اگست کو روایتی حریف پاکستان سے اس کا مقابلہ ہوگا۔ 51 سال بعد عالمی کپ کا خطاب جیتنے کے ہدف کے ساتھ ہندوستانی ٹیم اس بار مضبوط چیلنج پیش کرنے کے ارادے سے میدان میں اترے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن