
گلاسگو، 25 جولائی (ہ س)۔ 2026 کے دولت مشترکہ کھیلوں میں جب ہندوستانی کھلاڑی میدان میں اترتے ہیں، تو سب کی نظریں ان کی کارکردگی پر مرکوز ہوتی ہیں۔ ان کھلاڑیوں کے پیچھے، ایک ٹیم ہے جو انتھک محنت کر رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر مکمل طور پر تیار ہیں۔ انڈین اولمپک ایسوسی ایشن ( آئی او اے ) کی میڈیکل ٹیم کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی طبی دیکھ بھال، فزیوتھراپی، صحت یابی اور چوٹ کا انتظام فراہم کرکے ٹیم انڈیا کی مہم کو مضبوط بنا رہی ہے۔
جدید کھیلوں میں صرف ہنر ہی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ لگاتار مقابلوں کے ساتھ، کھلاڑیوں کی ریکوری ، بحالی اور کھیلوں کی سائنس کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہو گیا ہے۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، آئی او اے میڈیکل ٹیم ایتھلیٹس کے گلاسگو پہنچنے کے پہلے دن سے ہی ان کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
آئی او اے کی میڈیکل ٹیم کی قیادت معروف آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر دنشا پردی والا کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ فزیو تھراپسٹ سمنش سیوالنکا، کرس پیڈرا اور دیباشیش داس کھلاڑیوں کی صحت یابی، معمولی چوٹوں کا علاج کرنے اور انہیں مقابلے کے لیے فٹ رکھنےکی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ ڈاکٹر پاردی والا نے کہا کہ ٹیم مینیجرز کی جانب سے یہ سننا کہ میڈیکل ٹیم کی موجودگی سے کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے، یہ انتہائی اطمینان کا باعث ہے۔
گلاسگو میں اس بار ایتھلیٹس کے لیے کوئی مرکزی ایتھلیٹس گاو¿ں نہیں ہے۔ ہندوستانی دستے کو تین مختلف ہوٹلوں میں رکھا گیا ہے۔ اس طرح، آئی او اے نے مرکیور ہوٹل میں اپنا مرکزی علاج کا مرکز قائم کیا ہے، جبکہ تمام ہوٹلوں میں طبی عملے کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ کھلاڑیوں کو کسی بھی وقت فوری طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر پاردی والا کا کہنا ہے کہ ان کی سب سے بڑی خوشی ایک سخت ٹریننگ یا مقابلے کے بعد کھلاڑیوں کے چہروں کو روشن دیکھنا ہے۔ آئی او اے کی میڈیکل ٹیم ان کھیلوں میں کھلاڑیوں کو طبی امداد بھی فراہم کر رہی ہے جن کے پاس وقف ڈاکٹر یا فزیو تھراپسٹ نہیں ہیں۔ چھوٹی ٹیمیں، جیسے تیراکی اور جمناسٹکس، اس مرکزی طبی یونٹ پر مکمل انحصار کرتی ہیں۔
آئی او اے کا ماننا ہے کہ کسی بھی تمغے کے پیچھے صرف کھلاڑی کی کارکردگی نہیں ہوتی بلکہ پورے سپورٹ سسٹم بشمول کوچز، ڈاکٹرز، فزیوتھراپسٹ، نیوٹریشنسٹ، ٹیم مینیجرز اور لاجسٹک اسٹاف کی محنت ہوتی ہے۔ انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کے مطابق کامن ویلتھ گیمز میں کامیابی کا اندازہ صرف تمغوں سے نہیں بلکہ اس یقین سے بھی ہوتا ہے کہ ہر کھلاڑی کے پیچھے ایک مضبوط ٹیم ہر لمحہ ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد