کسانوں کے بعد اب نوجوانوں کے سامنے جھکی مغرور مودی حکومت: سنجے سنگھ
نئی دہلی، 25 جولائی(ہ س )۔ عام آدمی پارٹی نے ملک کے نوجوانوں کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوئی مودی حکومت پر سخت حملہ بولا ہے۔ آپ کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں صرف دو مرتبہ ایسا موقع آیا ہے جب غرور میں ڈوبی مو
کسانوں کے بعد اب نوجوانوں کے سامنے جھکی مغرور مودی حکومت: سنجے سنگھ


نئی دہلی، 25 جولائی(ہ س )۔

عام آدمی پارٹی نے ملک کے نوجوانوں کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوئی مودی حکومت پر سخت حملہ بولا ہے۔ آپ کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں صرف دو مرتبہ ایسا موقع آیا ہے جب غرور میں ڈوبی مودی حکومت کو مجبوراً جھکنا پڑا۔ پہلی مرتبہ کسانوں کی تحریک کے دوران ایک سال بعد حکومت کو جھکنا پڑا تھا اور دوسری مرتبہ نوجوانوں کی یہ تحریک ہے، جس کے سامنے حکومت کو جھکنا پڑا ہے۔ اس کے نتیجے میں وزیر تعلیم کا استعفیٰ ہوا اور این ٹی اے کے کئی افسران کو برطرف کیا گیا، جو نوجوانوں کی بہت بڑی جیت ہے۔ اس کے علاوہ، مودی حکومت کا ریکارڈ رہا ہے کہ اس نے ہر تحریک کو لاٹھیوں کے زور پر کچلنے کی کوشش کی اور حکومت کسی کے سامنے نہیں جھکی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ ہم لوگ نعرہ لگاتے تھے کہ جس طرف جوانی چلتی ہے، اس طرف زمانہ چلتا ہے۔ ملک کے کروڑوں نوجوانوں کو سلام کہ نوجوانوں نے اس ملک کے وزیر اعظم اور مغرور حکومت کو دکھا دیا ہے کہ جب نوجوان بیدار ہوتا ہے تو حکومت کو کمبھ کرن کی نیند سے جاگنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے جنتر منتر کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں اس تحریک کی حمایت میں احتجاج جاری تھا۔ سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال کی اور ابھیجیت دیپکے نے تحریک چلائی، جبکہ کروڑوں نوجوان سڑکوں پر اتر کر اس تحریک کی حمایت میں کھڑے ہوئے۔ نوجوانوں کا بالکل واضح مطالبہ تھا کہ وزیر تعلیم استعفیٰ دیں اور اس سے کم کسی بات پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔سنجے سنگھ نے کہا کہ 12 برسوں میں یہ پہلی بار ہے جب کسی وزیر کا استعفیٰ ہوا ہے، جبکہ اس سے پہلے کسان تحریک کے دوران مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیٹے کے ہاتھوں پانچ کسانوں کو کچلے جانے کے باوجود وزیر کا استعفیٰ نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے نوجوانوں کی جدوجہد کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی طاقت اور توانائی کو مثبت سمت میں آگے لے کر بڑھیں۔ پرچہ لیک کے مسئلے سے اٹھنے والا یہ سوال اب روزگار تک جائے گا اور نوجوانوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ انہیں روزگار ملے اور ان کے تئیں حکومت کی جواب دہی اور ذمہ داری طے ہو۔آپ کے سینئر لیڈر اور دہلی کے سابق وزیر تعلیم منیش سسودیا نے ملک کے طلبہ اور نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے وہ کر دکھایا جس کا چند روز پہلے تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ آپ نے دھرمندر پردھان سے استعفیٰ لے لیا ہے۔ ملک کے نوجوانوں اور طلبہ نے نریندر مودی کے غرور کو توڑ دیا ہے۔ جو نریندر مودی چار دن پہلے تک دہلی پولیس کی لاٹھیوں کے بل پر ان نوجوانوں کے سر پھڑوا رہے تھے، طلبہ کی ٹانگیں تڑوا رہے تھے، ان کے ساتھ بدسلوکی کر رہے تھے اور انہیں جانوروں کی طرح بے رحمی سے پیٹ رہے تھے، آج انہی نریندر مودی کو اپنے بدعنوان وزیر تعلیم سے استعفیٰ لینا پڑا ہے۔ یہ آپ کی بہت بڑی جیت ہے۔ تمام طلبہ اور تحریک میں شامل افراد کو بہت بہت مبارکباد۔منیش سسودیا نے کہا کہ دھرمندر پردھان نے خود استعفیٰ نہیں دیا بلکہ ملک کے بچوں اور طلبہ نے ان سے استعفیٰ لے لیا ہے۔ استعفیٰ دینا یا لینا تو اس وقت مانا جاتا جب نیٹ گھوٹالے کے دوران 22 بچوں نے خودکشی کی تھی، اسی وقت ایک ذمہ دار وزیر اعظم اپنے وزیر تعلیم سے استعفیٰ لیتے۔ آج تو ملک کی جن زی نے ایک مغرور وزیر اعظم کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنے وزیر تعلیم کو ہٹائیں۔منیش سسودیا نے کہا کہ ملک کو بڑے پیمانے پر تعلیمی انقلاب کی ضرورت ہے۔ پرچہ لیک مافیا سے نجات اس کی پہلی منزل تھی، جسے نوجوانوں نے لاٹھیاں کھا کر اور بارش و حبس کے موسم میں احتجاج کر کے حاصل کیا ہے۔ یہ صرف پہلی جنگ جیتی گئی ہے، اس سے تعلیمی اصلاحات کی ایک نئی تحریک جنم لے گی۔ آج سے 5-10 سال بعد جب ہندوستان میں تعلیمی اصلاحات کے بڑے کام ہو رہے ہوں گے اور ہندوستان دنیا سے آگے نکل رہا ہوگا، تب اس تحریک کو بنیاد کا پتھر سمجھا جائے گا۔آپ کے سینئر لیڈر گوپال رائے نے کہا کہ یہ ملک کی طلبہ اور نوجوانوں کی تحریک کی بہت بڑی جیت ہے۔ مودی حکومت اپنی ضد پر اڑی ہوئی تھی۔ نیٹ پرچہ لیک ہونے کے بعد 22 طلبہ و طالبات کو اپنی جان گنوانی پڑی اور گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے شدید گرمی میں طلبہ سڑکوں پر تھے۔ سونم وانگچک کو 20 دن کی بھوک ہڑتال کے بعد گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ 20 جولائی کو طلبہ پر وحشیانہ لاٹھی چارج کیا گیا، آنسو گیس چھوڑی گئی، لوگوں کے ہاتھ پاوں اور سر زخمی ہوئے، لیکن وزیر اعظم نے نہیں سنا۔ اب جب یہ تحریک ملک گیر ہو گئی ہے تو مودی حکومت کے غرور کو جھکنا پڑا ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں آمریت کے ذریعے ہر آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی، لیکن طلبہ نے حکومت کی ہر سازش کو ناکام بنا دیا۔ یہ جمہوریت، آئین، جنتر منتر اور ملک کے نوجوانوں کی جیت ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande