
سری نگر/نئی دہلی 25جولائی (ہ س )۔
چنار بک فیسٹیول کے آٹھویں دن'ہندوستانی سنیما: اردو اور تہذیبی اقدار کا خزانہ' کے عنوان سے علمی و ادبی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ہندوستان کے ممتاز فلم ساز، مصور، ثقافتی احیا کے علم بردار اور پدم شری جناب مظفر علی بحیثیت پینلسٹ شریک ہوئے۔ جب کہ اس ڈسکشن کو معروف ڈرامہ نگار، ہدایت کار اور قومی اعزاز یافتہ ادیب پروفیسر دانش اقبال نے موڈریٹ کیا۔پروفیسر دانش اقبال نے ڈسکشن سے قبل موضوع کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلموں اور تہذیب کا اردو کے ساتھ چولی دامن کا رشتہ ہے۔ بولتی فلموں سے قبل خاموش فلموں میں بھی اردو زبان کلیدی رول ادا کررہی تھی۔ انھوں نے لکھنوی تہذیب کےساتھ مختلف تہذیبوں اورموضوع کے مختلف اہم نکات اور سوالات کے ذریعے گفتگو کو نہایت بامعنی اور فکرانگیز انداز میں آگے بڑھایا۔ پروفیسر دانش اقبال نے اردو زبان کی تہذیبی اہمیت، ہندوستانی سنیما میں اس کے ارتقائی سفر، ادبی تخلیقات کی فلمی تشکیل اور معاصر فلم سازی میں تہذیبی و ثقافتی اقدار کے تحفظ سے متعلق بھی متعدد اہم استفسار کیے، جن کے جواب میں جناب مظفر علی نے ہندوستانی سنیما میں اردو زبان، تہذیبی روایت، ادبی جمالیات، موسیقی، شاعری اور مشترکہ ثقافتی ورثے کے کردار پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا، ساتھ ہی انھوں نے اپنے فلمی سفر کے مختلف مراحل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ کی تہذیب، ماحول اور شاعری نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا۔اپنی پہلی فلم کے محرکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گاو¿ں سے شہر کی طرف ہجرت کررہے عام لوگوں کے کرب اور ان کی آباد ہورہی نئی دنیا نے مجھے پہلی فلم پر بنانے پر آمادہ کیا، علاوہ ازیں یہ بھی کہا کہ وہ تہذیبی دنیا بھی میرے ذہن میں تھی جو میں لکھنو¿ اور علی گڑھ میں چھوڑ آیا تھا۔ اس طرح دونوں مناظر کے تصورات نے میری پہلی فلم کو تیار کرنے میں کلیدی رول ادا کیا۔ مزید انھوں نے اردو زبان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب، شائستگی، حسنِ اظہار اور فکری روایت کی نمائندہ زبان ہے، جس نے ہندوستانی سنیما کی تشکیل اور ارتقا میں گہرے نقوش ثبت کیے ہیں۔ اپنی کچھ مشہور فلموں گمن، امراو¿ جان، انجمن جانثار وغیرہ کے تخلیقی سفر کے مختلف پہلوو¿ں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادب، موسیقی، مصوری اور سنیما جب ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوتے ہیں تو وہ ایسی ثقافتی دستاویز تخلیق کرتے ہیں جو نسلوں تک اپنی معنویت برقرار رکھتی ہے۔ مظفر علی نے کشمیر کی تہذیب اور اس سے وابستگی کے حوالے سے بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ تہذیب ایک ایسابامعنی لفظ ہے جو ہمیں منزل کی کامیابیوں تک پہنچاتا ہے۔ جب تک ہمیں دوسرے کی تہذیب کا احترام اور احساس نہیں ہوگا تب تک تہذیبی قدروں کی حقیقی تصویر نہیں بن سکتی۔ اس موقعے پر نئی نسل کو مشورہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ تہذیب کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں جس سے زندگی کے خوبصورت نقش کا احساس ابھرتا ہے۔ فنون پر گفتگو کرتے ہوئے اس سے مضبوط رشتہ قائم کرنے اور اسے بچوں کو ہر عہد میں سمجھنے اور اپنانے پر زور دیا۔ انھوں نے کشمیر کو ایک گلوبل ایستھیٹک کا حصہ بتا یا اور کہا کہ کشمیر کا فن اتنا لازوال ہے کہ اس کی پوری دنیا عاشق ہے۔یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی جمالیات کو وسیع پیمانے پر پیش کرنا میری دلی خواہش ہے۔
اس سے قبل قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے جناب مظفر علی اور پروفیسر دانش اقبال کے کارناموں اور ان کی خدمات پر اجمالی گفتگو کی۔ ڈسکشن کے دوران وقتاً فوقتاً جناب مظفر علی سے ہندوستانی سنیما میں اردو کے مستقبل، ادبی تخلیقات کو فلمی قالب میں ڈھالنے کے امکانات، نئی نسل میں تہذیبی شعور کی آبیاری اور ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق اہم سوالات کیے جن کے انھوں نے مدلل اور فکرانگیز جوابات دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اردو ادب اور ہندوستانی تہذیب سنیما کی روح ہیں اور ان کے فروغ کے لیے ادبی، ثقافتی اور تعلیمی اداروں کو مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے۔
مذاکرے کے آخر میں موجود ادیبوں، دانشوروں، فلمی شخصیات، طلبا اور ادب دوست سامعین نے مذاکرے میں بھرپور دلچسپی لی اور موضوع کے کچھ اہم پہلوو¿ں کے تعلق سےسوالات بھی کیے جن کا انھوں نے تسلی بخش جواب دیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ