
نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س)۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ اختلاف رائے فطری ہے، لیکن تمام اراکین کو آئین اور عوام کے تئیں پابند رہنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”بحث، مباحثے، یا یہاں تک کہ رخنہ اندازی بھی فیصلہ کن ہونی چاہئے۔ صرف رکاوٹ کے لئے رخنہ اندازی جمہوری مقصد کی تکمیل نہیں کرتی ہے ۔“
وہ ہفتہ کو 2026 کے دو سالہ انتخابات میں راجیہ سبھا کے نومنتخب اور نامزد ارکان کے لیے منعقدہ دو روزہ ”پررامبھ“ پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ ڈپٹی چیئرمین ہری ونش، راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل پی سی مودی، ارکان پارلیمنٹ اور راجیہ سبھا سکریٹریٹ کے سینئر عہدیدار اس تقریب میں موجود رہے ۔
نئے ممبران کو مبارکباد دیتے ہوئے سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ اس بار پہلی بار 67 ممبران راجیہ سبھا میں پہنچے ہیں۔ مختلف ریاستوں کی نمائندگی کرنے والے ممبران ایک مشترکہ مقصد سے متحد ہیں۔ انہوں نے کہا،”ہم ایک دستاویز یعنی ہمارا آئین، ایک وژن یعنی ملک مقدم اور ایک مقصد یعنی وکست بھارت کے ذریعہ متحد ہیں۔“
چیئرمین نے وقفہ سوالات اوروقفہ صفر کو ارکان پارلیمنٹ کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے وقار کو برقرار رکھیں۔ قاعدہ 267 کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ اسے صرف ”نایاب ترین صورتحال “ میں اور ایوان کی وسیع اتفاق رائے کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہئے۔
عوامی نمائندوں کے کردار پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ”انتخابات ووٹوں سے جیتے جاتے ہیں، لیکن عزت عوامی خدمت سے کمائی جاتی ہے۔“ انہوں نے کہا کہ ہر پالیسی، ہر سوال، ہر قانون اور ہر بحث لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اپنے پارلیمانی تجربے کا اشتراک کرتے ہوئے، رادھا کرشنن نے بتایا کہ لوک سبھا کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے، ٹیکسٹائل پر پارلیمانی ذیلی کمیٹی کی تجاویز پر مبنی ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن فنڈ اسکیم نافذ ہوئی۔ جس نے ٹیکسٹائل کی صنعت کو جدید بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے پارلیمانی اقدامات بھی دور رس پالیسی تبدیلیاں لا سکتی ہیں۔
انہوں نے ارکان پارلیمنٹ سے پارلیمانی قواعد، قانون سازی کے طریقہ کار، بجٹ کی کارروائیوں اور کمیٹیوں کے کام کاج کا اچھی طرح سے مطالعہ کرنے کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ اس بار موضوعاتی پروگرام ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر خصوصی سیشن شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی پر مبنی ٹولز جیسے ”وانی سیتو“ اب راجیہ سبھا میں متعدد زبانوں میں حقیقی وقت میں ترجمہ فراہم کرتے ہیں۔
اپنے خطاب کے آخر میں سی پی رادھا کرشنن نے تمام نئے ارکان کو کامیاب پارلیمانی کرئیر اور ملک کی خدمت کرنے کے لئے نیک خواہشات پیش کیں۔
اپنے استقبالیہ خطاب میں ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے کہا کہ نئے ممبران پارلیمنٹ ایسے وقت میں پارلیمنٹ میں آئے ہیں جب ملک ”امرت کال“ میں داخل ہو چکا ہے اور وہ ”وکست بھارت 2047“ کے ہدف کو حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کو جوابدہ بنائیں، مفاد عامہ کے مسائل اٹھائیں، تعمیری تنقید کریں اور بلوں پر بامعنی تجاویز پیش کریں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد