حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے 15 رکنی کمیٹی کی تشکیل کاا اعلان
ملت اسلامیہ ہند کے اجلاس کے بعد محبوبہ مفتی ، سلمان خورشید ، محمد ادیب ، مولانا کلب جواد ، سرور چشتی وغیرہ کا پریس کانفرنس سے خطاب، تین مہینے بعد پھر اجلاس کا عزم نئی دہلی،25جولائی(ہ س )۔ ملت اسلامیہ ہند کو درپیش مسائل پر غور و فکر کرتے ہوئے نم
حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے 15 رکنی کمیٹی کی تشکیل کاا اعلان


ملت اسلامیہ ہند کے اجلاس کے بعد محبوبہ مفتی ، سلمان خورشید ، محمد ادیب ، مولانا کلب جواد ، سرور چشتی وغیرہ کا پریس کانفرنس سے خطاب، تین مہینے بعد پھر اجلاس کا عزم

نئی دہلی،25جولائی(ہ س )۔

ملت اسلامیہ ہند کو درپیش مسائل پر غور و فکر کرتے ہوئے نمائندہ اجلاس میں میدان عمل میں اترنے کے لیے 15 رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا۔اس کے ساتھ ہی اجلاس میں فیصلہ لیا گیا ہے کہ تین مہینے بعد ایک بار پھر اجلاس منعقد ہوگا تاکہ مزید لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے۔مذکورہ بالا باتوں کا ذکر یہاں انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا گیا۔آئی ایم سی آر کے چیئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب کی کوششوں سے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں منعقدہ ملت اسلامیہ ہند کے کامیاب نمائندہ اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں محمد ادیب کے علاوہ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی ، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید ،تلگانہ کے وزیر اعلی کے مشیر محمد علی شبیر ،جماعت اسلامی ہند کے نائب صدرملک معتصم خان مجلس علمائ ہند کے جنرل سکریٹر ی مولانا کلب جواد ، درگاہ اجمیر کے گدی نشین سرور چشتی ،سابق مرکزی وزیر بہار علی اشرف فاطمی ،اے پی سی آر کے کنوینر ندیم خان،آئی ایم سی آر کے جنرل سکریٹری محمد اعظم بیگ وغیرہ نے شرکت کی۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ جب جموں و کشمیر میں ظلم و زیادتی ہو رہی تھی تو پورا بھارت خاموش تھااور پورا بھارت جموں و کشمیر بنا دیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ۲۰۱۹ میں آئین بدلنے کے بعد جو جموں و کشمیر میں ہو رہا ہے اب پورے ملک میں ہونے جا رہا ہے۔پارٹیوں کو توڑا جا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ بات مسلم کی نہیں ہے آنے والے دنوں میں ہندو بھائیوں کے ووٹوں کی قیمت بھی نہیں رہے گی۔جنتر منتر پر دھرنا دینے والے بچوں نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہندو مسلم سے اوپر اٹھ کر ملک کے لیے کھڑے ہونا ہے۔اے اے فاطمی نے اجلاس کی کامیابی کے لیے محمد ادیب کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں تعلیمی اداروں کے سلسلہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ موجودہ سرکار کام نہیں کر رہی ہے ، بجٹ بڑھانے کی بجائے کم کر رہی ہے۔مدرسوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، جوہر یونیورسٹی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملک معتصم خان نے بھی اجلاس کو کامیاب بتایا اور کہا کہ متحد ہوکر آگے بڑھنا ہے۔ظلم و زیادتی کے خلاف مضبوطی سے آواز بلند کرنی ہے۔سرور علی چشتی نے کہا کہ درگاہ اجمیر شریف وہ ہے جو سیکولر زم اور جمہوریت و آئین کا پاسدار ہے لیکن2007 میں اس پر حملہ کیا گیا اور اب اس کو مندر کہا جا رہا ہے جو شرمناک ہے ،اب ہم کچھ بولتے ہیں تو ہمیں جہادی کہا جاتا ہے، ہمیں ملک مخالف کہا جاتا ہے، ہمیں دہشت گرد کہا جاتا ہے۔لیکن کیا اس ڈر سے ہم چپ ہوجائیں ، نہیں۔ ہمیں بولنا پڑے گا۔ہم حسینی ہیں توظلم کے خلاف خاموش نہیں رہ سکتے۔مولانا کلب جواد نے کہا کہ بی جے پی کی طرح کانگریس بھی مسلمانوں کی مجرم ہے ،اس نے سب سے زیادہ ظلم کیا اور ہمیں تباہ کیا۔انھوں نے کہا کہ ہمیں ہندوں کو ساتھ لے کر اپنے مسائل کو حل کرنا ہوگا۔صرف مسلم حکومت سے نہیں لڑ سکتے۔محمد علی شبیر نے کہا کہ جس طرح ہم ملک کی آزادی کے لیے متحد ہوکر لڑے ، تلنگانہ کے لیے لڑے ویسے ہی آج ہمیں ملک میں جاری ناانصافی اور ظلم کے خلاف مل کر لڑنا ہے۔اپنے آئین کی حفاظت کے لیے لڑنا ہے۔سلمان خورشید نے کہا کہ جمہوری طریقہ کار اپنا کر ہم حکومت سے بات کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت بات چیت کرتی تو آج بچوں کو جنتر منتر پر دھرنا نہیں کرناپڑتا۔بات چیت کو کیسے آگےبڑھایا جا سکتا ہے اس کے لیے ہم نے کوشش کی ہے۔محمد ادیب نے کہا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ملت اسلامیہ ہند کی اہم شخصیات ایک پلیٹ فارم پر بیٹھی کیونکہ اب پانی سر کے اوپر چلا گیا۔یہ سلسلہ جلسہ نہیں تھا بلکہ غور و فکر کے لیے تقریب تھی۔آج سرکاری اداروں پر قبضہ ہو رہا ہے اس کو برباد کیا جا رہا ہے۔ آر ایس ایس کے لوگ اب تقرری کر رہے ہیں۔جامعہ اور علی گڑھ ،جوہر یونیورسٹی تک میں قبضہ ہو گیا ہے۔جامعہ میں ساورکر کا سو سالہ جشن منایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج قوم متحد ہوکر سرکار سے مانگ کر رہی ہے کہ آئیڈیا آف انڈیا کو نظر انداز مت کیجئے ورنہ ملک تباہ ہو جائے گا۔اس کے علاوہ حاجی رشید احمد چودھری آسام،سابق وزیر آئی اے ایس انیس انصاری ، اے پی سی آر کے کنوینر ندیم خان نے بھی اپنے خیالات کااظہار کیا۔ آخر میں محمد اعظم بیگ نے صحافیوں کا شکریہ ادا کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande