مرکزی وزیرِ تعلیم کااستعفیٰ تعلیمی احتساب اور اصلاحات کی جانب پہلا قدم
بہتر تعلیمی نظام کے لئے طلباء پرامن تعمیری جدوجہد جاری رکھیں : پروفیسر سلیم انجینئر نئی دہلی،25جولائی (ہ س )۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر، پروفیسر سلیم انجینئر نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے امتحانی بے
مرکزی وزیرِ تعلیم کااستعفیٰ تعلیمی احتساب اور اصلاحات کی جانب پہلا قدم


بہتر تعلیمی نظام کے لئے طلباء پرامن تعمیری جدوجہد جاری رکھیں : پروفیسر سلیم انجینئر

نئی دہلی،25جولائی (ہ س )۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر، پروفیسر سلیم انجینئر نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے امتحانی بے ضابطگیوں اور نیٹ پرچہ لیک تنازع کے تناظر میں احتساب کی جانب ایک دیر سے اٹھایا گیا اہم قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ استعفیٰ بہت پہلے آ جانا چاہیے تھا، تاہم موجودہ مرحلے پر بھی یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ملک بھر کے طلبہ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور اعتراضات نہایت سنجیدہ نوعیت کے تھے۔

میڈیا کو جاری اپنے بیان میں پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا: جماعت اسلامی ہند مرکزی وزیرِ تعلیم کے استعفے کا خیر مقدم کرتی ہے۔ ملک کے امتحانی نظام سے متعلق بار بار سامنے آنے والے تنازعات کے پیش نظر یہ فیصلہ بہت پہلے کر لیا جانا چاہیے تھا۔ تاہم، یہ قدم ذمہ داری کا تعین کرنے اور عوام کا تعلیمی اداروں پر اعتماد بحال کرنے کی جانب ایک اہم آغاز ہے۔ ہم جنریشن زی، طلبہ تنظیموں اور ملک بھر کے ان ہزاروں نوجوانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے احتساب کے مطالبے کے لیے پرامن احتجاج میں حصہ لیا۔ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران نوجوانوں نے جس عزم، صبر اور جمہوری شعور کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ ان کی مسلسل اور پرامن جدوجہد نے ثابت کیا ہے کہ ہندوستان کے نوجوان تعلیمی نظام کی شفافیت، دیانت داری اور لاکھوں طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: تاہم، صرف ایک فرد کا استعفیٰ تعلیمی نظام کو درپیش گہرے اور سنگین مسائل کا حل نہیں ہے۔ موجودہ بحران علامتی اقدامات سے نہیں بلکہ جامع اور بنیادی اصلاحات سے حل ہوگا۔ حکومت کو اب ایسے بامعنی اقدامات کرنے چاہئیں جن سے سرکاری امتحانات کی ساکھ بحال ہو، ادارہ جاتی شفافیت اور احتساب مضبوط ہو، اور مستقبل میں اس نوعیت کی ناکامیوں کی مکمل روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ اس اصلاحی عمل میں ماہرینِ تعلیم، تعلیمی منتظمین، محققین، اساتذہ اور دیگر متعلقہ ماہرین کو موثر انداز میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ دیرپا اصلاحات پیشہ ورانہ مہارت اور وسیع عوامی مشاورت کی بنیاد پر تشکیل پائیں۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے کہا:ہم اس تحریک کے دوران دہلی اور بہار میں پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جااستعمال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ پولیس کی مبینہ زیادتیوں، جن میں لاٹھی چارج، پیلٹ گن کا استعمال، قریب سے آنسو گیس کے گولے داغنا اور پرامن مظاہرین کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینا شامل ہے، نہایت تشویش ناک ہیں اور ان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگر اپنے حدود سے تجاوز کرنے والے اہلکاران کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی کی جائے۔

ہم طلبہ اور تمام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تعلیمی اصلاحات کے اس بڑے مقصد کے لیے پرامن اور جمہوری انداز میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہنی چاہیے جب تک بامعنی اصلاحات نافذ نہ ہو جائیں اور تعلیمی نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر بحال نہ ہو جائے۔ہمارے ملک کو ایک ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو شفاف ہو، دیانت داری پر مبنی ہو، ملک کے تمام طلباء و طالبات کے لئے قابلِ رسائی ہو، اور جو سب کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرے۔جماعت اسلامی ہند مرکزی وزیرِ تعلیم کے استعفے کا خیر مقدم کرتی ہے۔ ملک کے امتحانی نظام سے متعلق بار بار سامنے آنے والے تنازعات کے پیش نظر یہ فیصلہ بہت پہلے کر لیا جانا چاہیے تھا۔ تاہم، یہ قدم ذمہ داری کا تعین کرنے اور عوام کا تعلیمی اداروں پر اعتماد بحال کرنے کی جانب ایک اہم آغاز ہے۔ ہم جنریشن زی ، طلبہ تنظیموں اور ملک بھر کے ان ہزاروں نوجوانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے احتساب کے مطالبے کے لیے پرامن احتجاج میں حصہ لیا۔ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران نوجوانوں نے جس عزم، صبر اور جمہوری شعور کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ ان کی مسلسل اور پرامن جدوجہد نے ثابت کیا ہے کہ ہندوستان کے نوجوان تعلیمی نظام کی شفافیت، دیانت داری اور لاکھوں طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: تاہم، صرف ایک فرد کا استعفیٰ تعلیمی نظام کو درپیش گہرے اور سنگین مسائل کا حل نہیں ہے۔ موجودہ بحران علامتی اقدامات سے نہیں بلکہ جامع اور بنیادی اصلاحات سے حل ہوگا۔ حکومت کو اب ایسے بامعنی اقدامات کرنے چاہئیں جن سے سرکاری امتحانات کی ساکھ بحال ہو، ادارہ جاتی شفافیت اور احتساب مضبوط ہو، اور مستقبل میں اس نوعیت کی ناکامیوں کی مکمل روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ اس اصلاحی عمل میں ماہرینِ تعلیم، تعلیمی منتظمین، محققین، اساتذہ اور دیگر متعلقہ ماہرین کو موثر انداز میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ دیرپا اصلاحات پیشہ ورانہ مہارت اور وسیع عوامی مشاورت کی بنیاد پر تشکیل پائیں۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے کہا:ہم اس تحریک کے دوران دہلی اور بہار میں پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جااستعمال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ پولیس کی مبینہ زیادتیوں، جن میں لاٹھی چارج، پیلٹ گن کا استعمال، قریب سے آنسو گیس کے گولے داغنا اور پرامن مظاہرین کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینا شامل ہے، نہایت تشویش ناک ہیں اور ان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگر اپنے حدود سے تجاوز کرنے والے اہلکاران کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی کی جائے۔

ہم طلبہ اور تمام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تعلیمی اصلاحات کے اس بڑے مقصد کے لیے پرامن اور جمہوری انداز میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہنی چاہیے جب تک بامعنی اصلاحات نافذ نہ ہو جائیں اور تعلیمی نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر بحال نہ ہو جائے۔ہمارے ملک کو ایک ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو شفاف ہو، دیانت داری پر مبنی ہو، ملک کے تمام طلباء و طالبات کے لئے قابلِ رسائی ہو، اور جو سب کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande