غالب انسٹی ٹیوٹ میں بیگم عابدہ احمد یادگاری خطبے کا انعقاد
نئی دہلی ،25جولائی (ہ س )۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام بیگم عابدہ احمد یادگاری خطبے کا اہتمام کیا گیا۔تھیئٹر کی دنیا کی ممتاز شخصیت سلیم عارف نے ’ہندستانی تھیئٹر: آج اور کل‘ کے موضوع پر خطبہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا عموماً جب بھی ہندستانی تھیئٹر کی
غالب انسٹی ٹیوٹ میں بیگم عابدہ احمد یادگاری خطبے کا انعقاد


نئی دہلی ،25جولائی (ہ س )۔

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام بیگم عابدہ احمد یادگاری خطبے کا اہتمام کیا گیا۔تھیئٹر کی دنیا کی ممتاز شخصیت سلیم عارف نے ’ہندستانی تھیئٹر: آج اور کل‘ کے موضوع پر خطبہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا عموماً جب بھی ہندستانی تھیئٹر کی بات ہوتی ہے تو زیادہ تر ناسازگار حالات لوگوں کی بے توجہی اور سرکاری معاونت میں کمی کا رونا رویا جاتا ہے لیکن کوئی عملی اقدام کی طرف توجہ نہیں دلائی جاتی۔ میری نظر میں تھیئٹر کی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ مناسب قیمت پر آڈیٹوریم کی کمی ہے۔ اگر کم قیمت پر سہولیات کا خیال رکھتے ہوئے آڈیٹوریم کا انتظام ہو تو تھیئٹر کی دنیا میں نمایاں پیش رفت ہوگی۔ تھیئٹر کی طرف سے ایک شکایت یہ بھی ہے کہ جن فنکاروں نے ےھیئٹر سے اپنی شناخت بنائی اور فلموں میں شہرت حاصل کی انھوں نے دوبارہ تھیئٹر کی طرف مڑ کر نہیں دیکھا۔ صرف چند نام ہی آپ پیش کر سکیں گے جنھوں نے فلموں میں کامیابی کے بعد بھی تھیئٹر نہیں چھوڑا۔ اگر تھیئٹر سے فلموں میں کامیابی حاصل کرنے والے سال میں ایک بار بھی تھیئٹر کرتے تو اس سے تھیئٹر کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوتا۔ خطبے کی صدارت غالب انسٹی ٹیوت کے چیئرمین جسٹس جناب بدر درریز احمد نے کی۔ صدارتی خطاب میں انھوں نے کہابیگم عابدہ احمد اور غالب انسٹی ٹیوٹ کا رشتہ اساسی نوعیت کا ہے۔ انھوں نے غالب انسٹی ٹیوٹ کی شکل میں اردو کے ایسے ادارے کا خواب دیکھا تھا جو روایت کے ساتھ عصری مسائل کو بھی پیش نظر رکھتا ہو۔

آج کا خطبہ بھی انھیں کے وڑن کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ ڈرامہ ادب کی ایک توانا صنف ہے اور ساری دنیا میں اس نے ایک مثبت کردار پیش کیا ہے۔ اردو ادب میں بھی اس صنف کو زیادہ سے زیادہ فروغ اس کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کہا ہمارے یہاں جو سمینار ہوتے ہیں وہ خالص ادبی اور تحقیقی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کا یہی مزاج قائم رکھنے کی ضرورت ہے لیکن دوسری ادبی سرگرمیوں کے ذریعے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ وہ پہلو بھی زیر بحث آئیں جن کا سیدھا تعلق ادب اور تحقیق سے نہیں ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس تصور کی تکمیل کے لیے اب سے پہلے بھی جو ارباب فکر یہاں تشریف لائے ان کی گفتگو بہت فکرانگیز ثابت ہوئی اور آج کا خطبہ بھی اسی روایت کو مستحکم کرے گا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے کہا غالب انسٹی ٹیوٹ سال میں دو یادگاری خطبات کا انعقاد کرتا ہے۔ ایک فخر الدین علی احمد یادگاری خطبہ اور دوسرا بیگم عابدہ احمد یادگاری خطبہ۔ان دونوں لکچرس میں ہماری کوشش رہتی ہے کہ خالص ادب کے بجائے اپنے ارد گرد کے دیگر مسائل پر بھی گفتگو ہو سکے۔ اسی وجہ سے سے ہم نے سلیم عارف صاحب سے گزارش کی جن کی نظر ادب، ثقافت، سیاست اور ہمارے معاشرتی مسائل پر بہت گہری ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ انھوں نے اس درخواست کو قبول کیا اور یہاں بطور مہمان مقرر تشریف لائے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande