
غالب اکیڈمی کی ماہانہ شعری نشست میں ڈاکٹر جی آر کنول کا اظہار خیال
نئی دہلی ،25جولائی (ہ س )۔
گزشتہ روز غالب اکیڈمی میں نارنگ ساقی کی یاد میں شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ نشست کی صدارت ڈاکٹر جی آر کنول نے کی۔ انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ کچھ برس پہلے نارنگ ساقی کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا ،وہ مغموم ہوگئے تنہائی میں وہ اپنی تصانیف اور کنور مہنمدر سنگھ بیدی کی کتابوں کی طباعت و اشاعت میںپوری طرح لگ گئے۔جو کام غالب کے لیے مولانا الطاف حسین حالی نے کیا وہی کام نارنگ ساقی نے کنور مہندر سنگھ بیدی کے لیے کیا۔ بیدی صاحب پر کتابیں لکھ کر اور ان کی کتابوں کو چھاپ کر بیدی صاحب کو زندہ رکھا۔ہمیں نارنگ ساقی کی شخصیت کا جشن منانا چا ہیے۔جب جب اردو کا ذکر ہوگا۔ نارنگ ساقی کا ذکر ہوتا رہے گا۔ اردو گنگا جمنی تہذیب کی زبان ہے جس نے اردو سکھ لی وہ کوئی اور زبان نہیں بولے گا۔ نارنگ ساقی نے پنجابی، انگریزی کو چھوڑ کر اردو کو اپنایا۔ اس موقع پر شعرا نے تعزیتی کلمات کے ساتھ اپنے اشعار پیش کیے۔ منتخب اشعار پیش خدمت ہیں
بتاﺅں کیا کسی کو اپنا مذہب جب میرے دل میں
کہیں کعبہ منور ہے کہیں بت خانہ روشن ہے
جی آر کنول
رونق بزمِ زندگی ہو کر
ہر نظر میں بلند ہوتے ہیں
ظفر مراد آبادی
جب علم و ادب کاوہ سناتا تھا فسانہ
سنتا تھا بڑے شوق سے پھر اس کو زمانہ
متین امروہوی
شکاری جال پھیلائے ہوئے ہیں
پرندوں کو کوئی ہوشیار کر دے
سیف سحری
قلب کا دامن جنوں میںبھی نہ چھوڑا عقل نے
دھڑکنوں کی چاپ سن کر مجھ کو خوف آتا رہا
عازم کوہلی
ان کے لبوں پہ موج تبسم بکھر گئی
اتنا بڑا نصیب میری چشم تر کا ہے
ظہیر احمد برنی
آج جانے کیا ہوا تھا درمیانِ گفتگو
کوئی شکوہ نہ گلہ تھا درمیان گفتگو
دویا جین
گفتگو ثابت کرے گی علم وفن کی آبرو
آبرو محفوظ رکھتی ہے ہماری گفتگو
شاہد انور
تم تھے فراز الفت‘ تم روح آدمیت
اب دل کسے پکارے کے ایل نارنگ ساقی
سرفراز احمد فراز
سچ بولنے کی یوں ہمیں عادت نہیں رہی
اس شے کی اب کسی کو ضرورت نہیں رہی
شارق اعجاز عباسی
منزلیں خود پاﺅں چومے گی میرے ہرموڑ پر
جب میرے جوشِ جنوں کی انتہا ہو جائے گے
نعیم بدایونی
دل دلربا کی خواہش وفا کیا ہے جاکے پوچھو
غم ہجر ہی ہے سہنا یا کہ بوستاں میں رہنا
وفا اعظمی
اہل وفا کے تیر ملے طعنہ زن کے بعد
سو دل بھی جل رہا ہے مرا تن بدن کے بعد
طلعت سروہہ
زندگی تو بھی بے وفا سی ہے
ایک پانی کا بلبلا سی ہے
فرزانہ غزل
پسینہ جسم سے بہنا بھی اچھا ہے تیرے حق میں
کبھی مزدور کو شوگر کی بیماری نہیں ہوتی
حبیب سیفی
سخن میں طنز کے جلوﺅں کا معترف تھا سدا
اسی کے رنگ نے چشمہ کو سادگی بخشی
چشمہ فاروقی
اندھیرا ہی اندھیرا چھا رہا جس سمت بھی دیکھو
اجالوں کا کوئی سورج اگا کر دیکھ لیتے ہیں
نزاکت امروہوی
اس موقع پر شہلا احمد، سید وجاہت،پروین ویاس،امرتا امرت، سیما کوشک،عارف دہلوی،گولڈی غضب، امثل فواز، سدھارتھ آغا، گلبہار،سرتاج سبینہ،پون کمار تومر، سمن ناگر،پریم ساگر پریم،ارون شرما صاحب آبادی،سشروت پنت ذرہ،پدم پردیپ،مدن لعل راج، وغیرہ نے اپنے اشعار پیش کیے۔خوسے مورالیس،شری کانت کوہلی، کمال الدین اور خطاطی کے استادشمیم احمد اورطلبا نے شرکت کی۔آخر میں غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے شکریہ ادا کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais