توانائی کے تحفظ کی سمت میں مہانادی آف شور بیسن میں پہلے تشخیصی کنویں کی کھدائی کا کام شروع: ہردیپ پوری
نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س)۔ مرکزی پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے ہفتہ کو مہانادی آف شور بیسن میں پہلے تشخیصی کنویں کی کھدائی شروع کرنے کا اعلان کیا۔پوری نے اسے توانائی کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔ ہردی
Drilling-of-1st-appraisal-well-begins-in-Mahanadi-


نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س)۔ مرکزی پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے ہفتہ کو مہانادی آف شور بیسن میں پہلے تشخیصی کنویں کی کھدائی شروع کرنے کا اعلان کیا۔پوری نے اسے توانائی کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔

ہردیپ سنگھ پوری نے اس موقع کو”توانائی کے تحفظ کی طرف ہندوستان کے سفر میں ایک نئے باب کا آغاز“ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرلنگ (کھدائی)کا آغاز ایک دہائی کی دوراندیش اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ ان اصلاحات نے ملک میں تیل اور گیس کی تلاش اور پیداوار کے منظر نامے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

مرکزی وزیر پٹرولیم نے حکومت کے تیل و گیس کی تلاش سے متعلق اصلاحات کے تحت ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ او ایل پی کے تحت تقریباً 3.8 لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط 172 ایکسپلوریشن بلاکس الاٹ کئے جا چکے ہیں، جن میں 4.3 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف مالی سال 2025-26 کے دوران تقریباً 674 کنووں کی کھدائی کی گئی، پانچ نئے ذخائر دریافت کئے گئے اور سات ذخائر سے پیداوار شروع ہوئی۔

ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ ہر ایک میٹر کی ڈرلنگ ہمیں درآمدی انحصار کو کم کرنے، خود انحصاری کو مضبوط بنانے اور وکست بھارت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے قریب لاتی ہے۔ انہوں نے او این جی سی ، آئل انڈیا لمیٹڈ، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہائیڈرو کاربن، تکنیکی شراکت داروں اور پوری ایکسپلوریشن کمیونٹی کو اس کامیابی کے لیے مبارکباد دی اور اس یقین کا اظہار کیا کہ آج شروع ہونے والی کھدائی ہندوستان آف شورایکسپلوریشن کی کوششوں کو مزید تقویت دے گی اور ملک کی طویل مدتی توانائیکے تحفظ اور توانائی میں خود کفالت کے اہداف میں تعاون ملے گا۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande