
نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے تعلیمی اصلاحات کے لیے جنتر منتر اور ملک بھر میں احتجاج کر رہی ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) کے تمام مطالبات کوہفتہ کو تسلیم کرلئے ۔ اس کے ساتھ ہی سی جے پی نے اپنا احتجاج واپس لے لیا ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ تعلیمی اصلاحات کے لیے آنے والے ہفتوں میں سی جے پی ٹیم کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی نمائندگی کرنے والے ترجمان سورو داس اور آشوتوش رانکا نے آج دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں مرکزی وزرا جگت پرکاش نڈا اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے ساتھ بات چیت کی۔ بات چیت کے بعد چاروں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
اس میں مرکزی وزیر نڈا نے کہا کہ حکومت نے طلباءکے مطالبات کو ہمدردی سمجھا اور انہیں تسلیم کیا ہے۔ معاوضے کے معاملے کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ حکومت ان کی حالت کے بارے میں حساس ہے اور قواعد کے مطابق جتنا زیادہ ممکن ہو سکے گا، اتنا معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔
سی جے پی کے ترجمان سورو داس اور آشوتوش رانکا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سی جے پی کا بنیادی مطالبہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تھا، جو پہلے ہی منظور ہو چکا ہے۔ ہمارا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ 20 تاریخ کے بعد ہونے والے مظاہروں سے متعلق دہلی اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں درج تمام ایف آئی آر کو واپس لیا جائے۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے اور اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ درج کی گئی تمام ایف آئی آر تین سے چار دنوں میں ہمارے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ان کے احتجاج پرسی جے پی کی ٹیم کے خلاف آئندہ کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔سی جے پی اپنے مطالبات کا مسودہ حکومت کے ساتھ شیئر کرے گی اور منگل کو تحریری ضمانت فراہم کی جائے گی۔
سی جے پی کے دونوں ترجمانوں نے کہا کہ حکومت نے نیٹ امتحان کی وجہ سے خودکشی کرنے والے طلباءکے اہل خانہ کے لیے معاوضہ کا مطالبہ بھی قبول کر لیا ہے۔ وہ چار ہفتوں کے اندر حکومت کے ساتھ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات سمیت مذاکرات دوبارہ شروع کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی یقین دہانی کے بعد وہ آج اپنا احتجاج واپس لے رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد