زبردستی مذہب تبدیلی کا معاملہ درج ہوا، کئی افراد حراست میں لیے گئے، پولیس کی کارروائی جاری
بارہ بنکی، 24 جولائی (ہ س)۔ بارہ بنکی ضلع کے فتح پور کوتوالی علاقے میں زبردستی مذہب تبدیلی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے دیر رات مقدمہ درج کر کے کارروائی کرنے کی بات کہی ہے۔ فتح پور تھانہ علاقے کی ایک خاتون کے مطابق ان کے شوہر کی کافی عرصے پہ
ایف آئی آر ۔ علامتی تصویر


بارہ بنکی، 24 جولائی (ہ س)۔

بارہ بنکی ضلع کے فتح پور کوتوالی علاقے میں زبردستی مذہب تبدیلی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے دیر رات مقدمہ درج کر کے کارروائی کرنے کی بات کہی ہے۔ فتح پور تھانہ علاقے کی ایک خاتون کے مطابق ان کے شوہر کی کافی عرصے پہلے موت ہو چکی ہے۔ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ رہتی ہیں۔ بیٹی کی تاریخِ پیدائش چار فروری 2008 ہے۔ خاتون کا الزام ہے کہ سال 2024 میں فتح پور کوتوالی میں تعینات کانسٹیبل آصف نے بیٹی سے رابطہ کر کے اس کی جنسی ہراسانی کی کوشش کی۔ کئی بار فون پر مذہب تبدیل کرانے کی کوشش کی۔ بیٹی کے منع کرنے پر غریبی کا فائدہ اٹھانے کی ناپاک کوشش کی۔ سپاہی پیسوں کا لالچ دے کر مذہب تبدیلی کے لیے ترغیب دینے لگا۔ اس کے لیے آصف نے سعودی عرب میں رہ رہے فتح پور کوتوالی علاقے کے ہی بسارہ گاوں کے ساکن جاوید سے بات کروائی۔

جاوید نے بیٹی کو مذہب تبدیلی کے لیے ترغیب دینا شروع کر دیا۔ جاوید نے آہستہ آہستہ انسٹاگرام پر رابطہ قائم کر کے اس کی ذہن سازی کر دی۔ جاوید سعودی عرب سے لوٹا اور 2 جنوری 2026 کو بیٹی سے رابطہ کر کے اپنے ساتھ لے جا کر اس کی جنسی ہراسانی کی اور مسلم مذہب اپنانے کی تعلیم دی۔ اس دوران بیٹی دو بار حاملہ ہوئی، جسے دوا کھلا کر اسقطِ حمل کرا دیا گیا۔

کچھ دن پہلے اس کی بیٹی کو جاوید اپنے بہنوئی صفدر گنج تھانہ علاقے کے چک گاوں کے ساکن ریحان، شہر کوتوالی کے قانون گویان کے ساکن حمزہ کے ساتھ مسولی بازار میں واقع مزار پر لے گیا۔ یہاں مولانا نے سات آٹھ ساتھیوں کے ساتھ آ کر ان کی بیٹی کا نکاح زبردستی جاوید سے کرا دیا۔

ایس پی وکاس چندر ترپاٹھی نے بتایا کہ رپورٹ درج کر لی گئی ہے۔ کچھ لوگوں کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ متاثرہ کا بیان درج کرایا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande