جنوب مشرقی ریلوے نے نیم پورہ ویسٹ آؤٹر کیبن - مدنا پور کے درمیان تیسری لائن کو منظوری دی
نئی دہلی، 23 جولائی (ہ س)۔ بھارتی ریلوے نے جنوب مشرقی ریلوے پر نیم پورہ ویسٹ آؤٹر کیبن اور مدنا پور کے درمیان 14.52 کلومیٹر لمبی تیسری ریل لائن کی تعمیر کو منظوری دے دی ہے۔ 440 کروڑ روپے کا یہ پروجیکٹ زیادہ استعمال ہونے والے نیٹ ورک پر مسافروں اور
Indian Railways


نئی دہلی، 23 جولائی (ہ س)۔ بھارتی ریلوے نے جنوب مشرقی ریلوے پر نیم پورہ ویسٹ آؤٹر کیبن اور مدنا پور کے درمیان 14.52 کلومیٹر لمبی تیسری ریل لائن کی تعمیر کو منظوری دے دی ہے۔ 440 کروڑ روپے کا یہ پروجیکٹ زیادہ استعمال ہونے والے نیٹ ورک پر مسافروں اور مال بردار ٹرین کی آمد ورفت کو نمایاں طور پر ہموار کرے گا، جبکہ مال برداری کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔

ریلوے کی وزارت نے جمعرات کو بتایا کہ یہ پروجیکٹ بھارتی ریلوے کے زیادہ بھیڑ بھاڑ والے ریل روٹ پر گنجائش کی توسیع کا منصوبہ ہے۔اس کا مقصد مسافروں اور مال برداری کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنا، آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانا اور صنعتوں اور ضروری اشیاءکی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بناناہے۔

وزارت کے مطابق، مجوزہ تیسری لائن جنوب مشرقی ریلوے پر نیم پورہ ویسٹ آؤٹر کیبن سے مدنا پور تک 14.52 کلومیٹر لمبی ہوگی۔ یہ سیکشن ہائی یوٹیلائزیشن نیٹ ورک (ایچ یو این-2) کا سیکشن ہے۔ فی الحال، نیم پورہ ویسٹ آؤٹر کیبن-گوکل پور سیکشن سنگل لائن ہے، جس میں ریل پٹریوں کو دوگنا کرنے کا کام پہلے سے جاری ہے۔ تیسری لائن کی تعمیر سے اس اسٹریٹجک ریل روٹ کی صلاحیت اور آپریشنلاستحکام میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

اس ریل روٹ میں مسافر ٹرینوں کے ساتھ ساتھ مینگنیز، لوہا، کنٹینرز، کوئلہ، کلینکر، پیلٹ آئرن، اسٹیل، گیہوں، پتھر، سلیپر، سلیگ، نمک، چاول، پیٹرولیم مصنوعات، چونا پتھر، جپسم، کھاد، خوردنی تیل اور دیگر ضروری اشیا کا بڑے پیمانے پرنقل و حمل ہوتا ہے۔ اس روٹ پر موجودہ مال بردار ٹریفک تقریباً 23.80 ملین ٹن سالانہ (ایم ٹی پی اے) ہے۔

ریلوے کی وزارت نے کہا کہ اس سیکشن پر لائن کی گنجائش کا استعمال 115.71 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس سے انتہائی دباو¿ پیدا ہو رہا ہے۔ تیسری لائن کی تعمیر سے اس بھیڑ کو کم کیا جائے گا، مسافروں اور مال بردار ٹرینوں کے آپریشن کو ہموار کیا جائے گا اور نیٹ ورک کی بھروسے میں بہتری آئے گی۔

مکمل ہونے پر، منصوبے سے روٹ میں سالانہ 3.52 ملین ٹن مال بردار صلاحیت کا اضافہ ہو گا۔ اس سے کوئلہ، لوہے،ا سٹیل، سیمنٹ اور دیگر ضروری اشیا کی نقل و حمل میں تیزی آئے گی، آپریشنل رکاوٹوں کو کم کیا جائے گا اور بہتر ریل رابطے کے ذریعے صنعت اور تجارتی سرگرمیوں کو فائدہ پہنچے گا۔

ریلوے کی وزارت کے مطابق، یہ پروجیکٹ بھارتی ریلوے کی صلاحیت کو بڑھانے اور ایک جدید، موثر اور مستقبل کے لیے تیار ریل نیٹ ورک تیار کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande